Pages

Mazloom nigeria

نائجیریا کے کامیاب لیڈر .ابراہیم زکزکی
پیغمبر نوگانوی
12دسمبر 2015کی رات بر اعظم افریقہ کے شمالی نائجیریا میں صوبۂ ''کادونا'' کے ''زاریا'' شہر والوں کے لئے قیامت سے کم نہ تھی ، ہر طرف چیخ و پکار، گولیوں کی تڑتڑاہٹ ، بکھری ہوئی خون آلود لاشیں اور زخمیوں کی سسکیاں تہذیب و تمدن کے نام نہاد رکھوالوں سے چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں کہ تم نے فرانس میں دہشت گردانہ حملہ میں 100لوگوں کے جاں بحق ہوجانے پر پوری انسانیت پر حملہ قرار دیا تھا اور عجلت میں فرانس نے بھی شام پر اندھا دھند بمباری کرکے کتنے ہی بے گناہوں کو مارڈالا تھا ، لیکن ہمارے لئے تو کسی نے زبان تک نہ کھولی ، کوئی میڈیا ہمارا حال جاننے نہیں آئی ، کسی اخبار نے ہمارے فوٹو نہیں لئے سوشل میڈیا کے کھلاڑیوں نے بھی اپنی DPتبدیل نہیں کی ، کیا ہم انسان نہ تھے ؟!اس بار، زارا شہر کے شیعوں پر یہ قیامت تکفیری ''بوکو حرام'' نے نہیں ڈھائی تھی بلکہ یہ ظلم اُس فوج نے کیا تھا جس نے یہ وردی پہنتے وقت اپنے ملک کے شہریوں کی حفاظت کا حلف لیا تھا اور یہ عہد کیا تھا کہ ہم اپنی مقدس وردی کو کسی مظلوم کے خون سے داغدار نہیں ہونے دیں گے ، لیکن یہ کیا ہوگیا ؟ دیکھتے ہی دیکھتے سارے عہد و پیمان توڑ ڈالے ، حلف کی پروا ہ بھی نہ کی اور ہزاروں شیعوں کے خون سے اپنی وردی کو رنگین کر لیا اور شیعوں کے مذہبی مرکز کو مسمار کرڈالا اور لیڈر کو زخمی کردیا ،رپورٹوں کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت رونما ہوا جب نائجیریائی شیعوں کے لیڈر شیخ ابراہیم زکزکی ہزاروں مقامی مسلمانوں کے ہمراہ فرزند رسول (ص) حضرت امام علی رضا (ع) کی شہادت کی مناسبت سے امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں عزاداری میں مشغول تھے اور عین اسی وقت نائجیریا ئی فوج کا جنرل ''ٹوکوربروٹئی''اپنے فوجی قافلہ کے ساتھ اس جگہ سے گزر کر کسی تکفیری لیڈر سے ملنے جا رہا تھا جو امام بارگاہ بقیۃ اللہ کے اطراف میں ہی رہتا ہے ، جاتے ہوئے، جنرل تھوڑی دیر ان لوگوں میں ٹھہرا جو امام بارگاہ کے باہر موجود تھے اور پھر اُس تکفیری سے ملنے چلا گیا ، اس کے تھوڑی دیر بعد مسلح فوجیوں اور ٹینکوں کے ساتھ امام بارگاہ پر آگیا اور وہاں موجود لوگوں کا محاصرہ کرلیا اور کچھ دیر بعد ان لوگوں کے ذریعہ فوجی قافلہ کا راستہ روکنے کا بہانہ بنا کر امام بارگاہ کو مسمار کرنے کا حکم دے دیا اور موجود لوگوں پر گولیاں برسانی شروع کردیں ، جس کی وجہ سے 300عزادار امام بارگاہ کے اندر اور 300امام بارگاہ کے باہر اُسی وقت شہید ہو گئے اور جو زخمی تھے اُن میں سے بھی کئی سو چل بسے اس طرح جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 800تک پہنچ گئی ہے ، خبروں کے مطابق مقامی باشندوں نے اس قتل عام کا الزام امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب پر عائد کیا ہے اور اکثر دیکھا بھی یہی گیا ہے ، نائیجرین شیعوں کے قائد شیخ ابراہیم زکزکی امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کی تسلط پسندانہ پالیسیوں اور امریکی اسلام کو مسترد کرتے رہے ہیں اسی لئے یہ تینوں ملک شیخ ابراہیم کو نا پسند کرتے ہیں ، شیخ ابراہیم یعقوب زکزکی 5مئی 1953عیسوی میں شمالی نائیجریا کیشہر زانا میں پیدا ہوئے ، اس ملک کی آبادی 17کروڑ افراد پر مشتمل ہے ،اسی لئے یہ افریقہ کا آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا ملک ہے ، نائجیریا کے شمال میں مسلمان آباد ہیں اور جنوب میں عیسائی ، مسلمانوں کی آبادی 50%سے زیادہ ہے ، تیل ایکسپورٹ کرنے والے ملکوں میں نائیجریا کا آٹھواں اور افریقہ میں پہلا مقام ہے اور پورے براعظم افریقہ میں شیعہ اثنا عشری مسلمانوں کی سب سے بڑی تعداد بھی نائیجریا ہی میں موجود ہے ،اس لحاظ سے یہ ایک بہت اہم ملک ہے ، اس ملک میں شیعوں کی سب سے بڑی اور با اثر تنظیم ''اسلامی مومینٹ آف نائیجریا'' ہے جو ''اخوان المسلمین '' سے علیحدہ ہو گئی تھی ، اخوان المسلمین کے کچھ کارکنوں نے مذہب اہل البیت (ع) اپنا لیا تھا جس کی بنائ پر انہیں اخوان المسلمین سے علیحدہ ہونا پڑا ، اس کے بعد یہ تنظیم وجود میں آئی ، اس تنظیم کے بانی شیخ ابراہیم یعقوب زکزکی ہیں ، اس تنظیم کی سماجی اورمذہبی فعالیت کا انداز ''حزب اللہ '' لبنان سے مشابہ ہے اسی لئے یہ تنظیم اور اس کے قائد، نہ صرف شیعوں بلکہ اہل سنت اور عیسائیوں میں بھی مقبول و محبوب ہیں ،یہی وہ چیز ہے جس سے نائجیریا کی حکومت بے چین ہے ، اس محبوبیت بالخصوص شیعوں کے درمیان مقبولیت کا اعتراف نائجیریا کی ایک سیاسی شخصیت ''ہارون بیناوی''نے فارس نیوز ایجنسی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کیا ہے ، اس کے علاوہ اس سال اربعین حسینی کے موقع پر نائجیریا کے زار شہر میں شیخ ابراہیم کی ایک آواز پر عزاداری شہدائے کربلا برپا کرنے کے لئے 50لاکھ لوگ اکٹھا ہوگئے تھے اور دنیا میں اربعین حسینی کا کربلا کے بعد یہ سب سے بڑا اجتماع تھا ، نائجیریا کی حکومت اسی بات سے خوف زدہ ہو گئی کہ حکومت کی پوری مشینری کا زور لگا کر بھی اتنے افرادکو ایک جگہ جمع نہیں کیا جا سکتا جتنے ایک عالم کی آواز پر ہو گئے تو پھر یہ عالم حکومت سے زیادہ طاقتور ہے ،حالانکہ اسی خوف کی وجہ سے شیخ زکزکی کو حکومت دو بار 1980اور 1990میں جیل بھیج چکی ہے ،جب کہ شیخ ابراہیم کی طاقت اُس وقت اتنی نہ تھی ،شیخ زکزکی ہر لحاظ سے لائق لیڈر ہیں جن کی لیاقت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1980میںنائیجریا میں شیعیت کو کوئی پہچانتا بھی نہیں تھا بمشکل تمام 100افراد پورے ملک میں شیعہ تھے ،ان میں بھی کچھ غیر ملکی تھے ، لیکن اسی سال شیخ ابراہیم زکزکی کہ جو '' احمد بن ویبلویونیورسٹی ''سے اقتصادیات سے فارغ ہیں، ایران کے اسلامی انقلاب اور رہبر انقلاب آیت اللہ العظمیٰ خمینی سے متاثر ہو کر شیعیت کی طرف مائل ہوگئے اور پھر ایران کے مقدس شہر قم تشریف لے گئے اور حوزۂ علمیہ میں علوم آل محمد (ص) سے سیراب ہوکر وطن واپس آگئے اور دوسرے لوگوں کو شیعیت کا تعارف کرانے لگے ، ابراہیم زکزکی نے شیعہ مذہب کے انگریزی زبان کے لٹریچر کا وسیع مطالعہ شروع کردیا اور 15سال بعد 1995عیسوی میں اپنے شیعہ ہونے کا اعلان کردیا ،شیخ ابراہیم نے خاموشی کے ان 15برسوں میں تقریباً 400افرادکو مذہب اہل البیت (ع) سے آشنا کرادیا تھا لیکن 1994میں شیخ ابراہیم زکزکی نے ''اسلامی مومینٹ آف نائیجریا'' کی تشکیل کے بعد اپنی فعالیت کا دائرہ وسیع کردیا ، جس میں عزاداریٔ امام حسین (ع) کے علاوہ اخبار ، رسالوں ، CD، فلموں ، کتابوں ، ویب سائٹوں وغیرہ کے ذریعہ مذہب اہل البیت (ع) کا تعارف وسیع پیمانے پر کرانے لگے ، جس کی وجہ سے آج نائیجریا میں بہت ہی منظم ، متحد اور فعال شیعہ وجود میں آگئے جن کی تعدادتقریباً 2 کروڑ بتائی جاتی ہے ، شیخ ابراہیم زکزکی،کی اس کامیابی اور فراست میں ان کا خلوص ، عوام سے ہمدردی اور اہل البیت (ع) کے اخلاق کی پاسداری شامل ہے ، آپ نے امام خمینی (رح) کی اسلامی بیداری تحریک سے بہت کچھ سیکھا ہے اسی لئے نائیجریا کی امریکہ نواز حکومت انہیں اپنے لئے خطرہ تصور کرنے لگی ہے ،جب کہ تکفیریوں کو چھوڑ کر ملک کی تمام عوام زکزکی کی حمایت کرتی ہے ، دوسری وجہ ابراہیم زکزکی کی کامیابی کی یہ ہے کہ آپ خود اپنے اہل و عیال کے ساتھ میدان عمل میں موجود رہتے ہیں ، برخلاف دوسرے لیڈروں کے جن کے بچے بنگلوں ، ہوٹلوں اور کوٹھیوں میں عیش و نوش میں مشغول رہتے ہیں ، لیکن شیخ ابراہیم کے 3بیٹے احمد، حمید اور علی پچھلے سال رمضان 1436ہجری کے آخری جمعہ میں بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کی حمایت میں نکلنے والی ریلی میں نائجیریائی فوج کے ہاتھوں شہید کر دیئے گئے ، جس سے مقامی لوگوں کے اُس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ اسرائیل کو شیخ ابراہیم زکزکی اور ان کی تنظیم ایک آنکھ نہیں بھاتی ، اور چوتھا بیٹا علی اور بیوی زینت اور بہو کے علاوہ دیگر اعزا، عزاداری ٔ امام میں شہید کردیئے گئے جس سے نائجیریا کے شیعوں کی یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ سعودی عرب نائیجریا میں شیعوں کے بڑھتے اثر و رسوخ سے خاصہ پریشان ہے ، نائیجریا کے اس واقعہ سے شیخ ابراہیم کی مقبولیت کا گراف بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے اور آپ نہ صرف نائجیریا بلکہ پوری دنیا کے حق پسندوں کے لئے نمونۂ عمل بن گئے ہیں ، آج کل شیخ ابراہیم زکزکی نائجیریا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے نمائندے ہیں اسی وجہ سے امریکہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا ہے ، ہو سکتا ہے بعض مقامی لوگ اسی وجہ سے اس حادثہ میں یا اس سے پہلے ہونے والے دیگر حملوں میں امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کو ذمہ دار مانتے ہوں ، بہر حال یہ تمام باتیں اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ شیخ ابراہیم زکزکی نے اپنی کامیابی کا لوہا پوری دنیا سے منوالیا ہے .