Pages

گھریلو مشکلات کو دور کرنے کے لیے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت سے

*بسم اللہ الرحمن الرحیم*

*گھریلو مشکلات کو دور کرنے کے لیے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت سے استفادہ*

*نظام تخلیق میں گھریلو نظام ایک عظیم مقام کا حامل ہے، اسی وجہ سے دین اسلام میں گھر اورگھروالوں کے سلسلے میں بہت اہمیت...*

مقدمہ
نظام تخلیق میں گھریلو نظام ایک عظیم مقام کا حامل ہے، اسی وجہ سے دین اسلام میں گھر اورگھروالوں کے سلسلے میں بہت اہمیت دی گئی ہے اور ان کے احترام کے لیے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اور لوگوں کو آئیدیل گھرانہ بنانے کے لیے ترغیب کی گئی ہے ؛ لہذا اس عظیم مقام تک رسائی کے لیے منابع الہی سے استفادہ کیا جائے کہ جن میں سے ایک حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت طیبہ ہے ۔

گھریلو مشکلات کے برطرفی کے لیے اخلاق حسنہ بہترین سبب ہے
گھر اور گھروالوں کا ماحول، رشد و تربیت کے لیے بہترین امن و سلامتی کی فضا ہے۔ اچھے اور کامیاب افراد نے سالم و پر امن گھرانوں میں پرورش پائی ہے۔ لہذا اگریہ فضا کسی بھی وجہ سے ناامن و غیر سالم ہوجائے تو اس کا نتیجہ، آئندہ کی نسل کے لیے بری رفتار کی صورت میں ظاہرہوگا۔ لہذا اس لیے کہ گھریلو ماحول مشکل ساز نہ ہو کچھ مناسب نمونوں کی ضرورت ہے کہ جن میں سے بہترین نمونے آئمہ طاہرین علیہم السلام ہیں۔ بارہا اہل بیت طاہرین علیہم السلام خصوصا حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ صراط مستقیم پر گامزن ہونے کےلیے سب سے پہلے اپنے گھر سےآغاز کرنا چاہیے۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: تم میں سے روز قیامت وہ شخص مجھ سے زیادہ قریب ہوگا کہ جو اپنے گھروالوں کے ساتھ خوش رفتار ہو۔ پس گھریلو مشکلات کو برطرف کرنے کے لیے اصلی معیار و ملاک اصلاح رفتار اور حضرت کی فرمائش کے مطابق خوش رفتاری ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اس لیے کہ تمام گھریلو مشکلات کا حل اسی نکتے میں پوشیدہ ہے۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام دوسرے بیان میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہوئے فرماتےہیں: «أَکْمَلُکُمْ إِیمَاناً أَحْسَنُکُمْ خُلُقاً»؛تمہارے درمیان ایمان اس شخص کا کامل ہے کہ جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔ یعنی جس انسان کا جتنا ایمان کامل ہوگا تو اس اخلاق بھی بہتر ہوگا خصوصا اپنے گھروالوں کے ساتھ انتہائی خوش اخلاقی سے پیش آئے گا۔ گھریلو مشکلات کو حل کرنے لیے بہترین روش حسن خلق ہے۔ یہ موضوع حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سیرت طیبہ میں بہت زیادہ واضح اور روشن تھا۔
آپ کے حسن اخلاق کے متعلق ابراہیم بن عباس نقل کرتے ہیں: میں نے کسی بھی شخص کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی طرح نہ دیکھااور نہ سنا اور میں نے حضرت سے کچھ ایسی چیزیں مشاہدہ کیں کہ جن کو کہیں اور نہیں دیکھا تھا، میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضرت نے اپنی گفتگو سے کسی کو اذیت پہنچائی ہو اور کبھی کسی کی بات نہیں کاٹی، جب تک کہ مخاطب کی بات تمام نہ ہوجاتی آپ خاموشی سے سنتے رہتے اور کسی بھی شخص کی ضرورت کو اگر ممکن ہوتی تو کبھی بھی رد نہیں کرتے اور اپنے پاس بیٹھنے والوں کے سامنے کبھی بھی پیر دراز نہیں کرتے۔ میں نے کبھی بھی آپ کو گالی دیتے نہیں دیکھا اور کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی کے سامنے زمین پر تھوکا ہو اور ہنستے ہوئے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگاتے تھے بلکہ صرف مسکراتے تھے اور جب کبھی دسترخوان لگایا جاتا اپنے خادموں، نوکروں حتی غلاموں اور دربانوں تک کو بلاتے اور اپنے ساتھ کھانا کھلاتے تھے۔ وہ امام کہ جو دوسروں کے ساتھ اس طرح پیش آئے وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ یقینا اس سے بہتر رفتار سے پیش آتے ہوں گے۔ آپ اپنے فرزند حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کو انتہائی احترام کے ساتھ بلاتے اور آپ کو آپ کی کنیت ابوجعفر کے ذریعہ پکارتے تھے۔ آپ اپنی خواہر گرامی حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ انتہائی محبت سے پیش آتے تھے۔ بہر حال حضرت کی سیرت طیبہ اپنے گھروالوں کےساتھ انتہائی خوش رفتاری پر مبنی تھی اور اس طرح بہت سی مشکلات کو برطرف فرماتے تھے ۔

نتیجہ گفتگو
*گھر کا ہر فرد اہل بیت علیہم السلام کی سیرت طیبہ کو اپنے لیے نمونہ قرار دے کر اپنی زندگی کے تمام مراحل میں اخلاق حسنہ اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرکے بہت سی مشکلات اور بڑی بڑی رکاوٹوں کو دور کرسکتاہے اور اگر اس سلسلے میں کسی مشکل سے روبرو ہو تووہ  کمترین پریشانیوں کے ساتھ برطرف کی جاسکتی ہے اور آخرکار اپنی زندگی میں خوشی و شادمانی لائی جاسکتی ہے کہ یہی گھروالوں اور معاشرے کی ترقی و رشد کا عظیم ترین سبب ہے۔*