Pages

New type of fake shia - gaali

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
                           بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان میں کچھ عرصے سے ایک گروہ شعیت کے خلاف کام کر رہا ہے۔ یہ گروہ دراصل استعماری طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے کہ جن کا مقصد شیعت کو تقسیم کر کے نقصان پہچانا ہے۔اس مقصد کے لیے دشمنان اسلام شیعت ہی میں سے کچھ لو گوں کو استعمال کررہے ہیں۔یہ گروہ ذاکرین اور نام نہاد علماء کا وہ گروہ ہے کہ جو اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے سادہ لوح شیعہ افراد کے عقائد کو خراب کر رہا ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب اس گروہ کے زیر اثر نظر آتی ہے۔
یہ ہمارے علماء ہی کا کام تھا کہ وہ قوم کو اس گروہ کے عزائم سے آگاہ کرتے اور عقائد کی اصلاح کرنے کا اپنا فرض پورا کرتے۔مگر شاید ہمارے علماء کی نظر میں اس فتنہ کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ہمارے وہ علماء بھی کہ جودہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف احتجاج میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں ۔اس وقت خاموش ہیں کہ جب قوم کے افراد کے عقائد کو قتل کیا جا رہا ہے۔
علماء کی خاموشی پر ہم اپنا یہ فرض سمجھتے ہیں کہ اپنی بساط کے مطابق اس فتنہ کے ان باطل عقائد کے خلاف آواز اٹھایں کہ جن کو یہ لوگ شیعت کے عقائد کے نام سے متعرف کرا رہے ہیں۔
یہ گمراہ گروہ دراصل اخباریت، شیخیت،نصیریت کے باطل اور نجس عقائد کو شیعیت کے عقائد کا نام دے کر اس کی تبلیغ کر رہا ہے۔ اس گروہ کے عقائد میں ان تمام باطل فرقوں کے عقائد شامل ہیں۔ ان باطل فرقوں کے عقائد میں ایک عقیدہ مشترک ہے کہ یہ انتہائی درجے کہ غالی (نبی یا آئمہ کی فضیلت میں وہ باتیں کہنا کہ جس کے نبی یا آئمہ حامل نہیں) ہیں۔اور پاکستان میں پروان چڑھنے والا یہ گروہ بھی غالیوں ہی کے عقائد ہی کی تبلیغ کر رہا ہے۔اس لیے ہم اس گروہ کو غالی اور ان کے عقائد کو غالیت کہ سکتے ہیں۔
غالیت کے عقائداور نظریات:۔
۱) یہ لوگ آئمہ کی تمام احادیث کو بالکل صحیح مانتے ہیں،
۲)یہ لوگ عمل (عبادت خدا) کو انتہائی کمتر سمجھتے ہوئے صرف عقیدے پر یقین رکھتے ہیں۔
۳) آئمہ ؑ کی شان میں انتہائی غلو(آئمہ کی وہ فضیلت بیان کرنا کہ جو آئمہ ؑ سے مخصوص نہیں)کرتے ہیں۔
۳)امام علی کو رب کہتے ہیں۔
۴)امام علی کو اللہ کہتے ہیں۔
۵)آئمہ معصومین کو خالق مانتے ہیں۔
۶)آئمہ معصومین کو رازق مانتے ہیں۔
۷)نماز میں شہادت ثالثہ (امام علی کی ولایت کی بھی شہادت دینا) کو واجب کہتے ہیں۔اور جو شہادت ثالثہ نہیں پڑھتا اس کو غیر حلالی کہتے ہیں۔
۸)حسین اور نماز میں تقابل کرتے ہوئے مجالس حسینؑ کو نماز سے مقدم سمجھتے ہیں۔
یہاں ہم نے ان غالیوں کے صرف چند عقائد کا ذکر کیا ہے۔ اب ہم کوشش کریں گے کے ان کے عقائد کوواضح کریں اور ان کے عقائد کے رد میں شیعیت کے عقائد کو پیش کریں۔مگر اس سے پہلے ہم غالیوں کی مذمت میں آئمہ کے ارشادات پیش کریں گے۔
امام علی کا ارشاد:۔
میری وجہ سے دہ قسم کے لوگ ہلاک ہو جائیں گے۔ایک غالی دوسرے قالی۔
امام جعفر و صادق کے غالیوں کے بارے میں ارشادات :۔
۱) آپ فرماتے ہیں کہ میرے کان ،میری آنکھیں،میری جلد، میرے بال،میرا گوشت اور خون ان (غالیوں) سے بیزار ہے۔خدا اور اس کا رسول ﷺ ان سے بیزار ہوں۔یہ لوگ ہمارے دین پر نہیں۔خدا ان کو اور مجھے کبھی ایک چھت کے نیچے جمع نہ کرے اور خدا ان سے ہمیشہ ناراض رہے۔
۲)غالیوں پر خدا کی لعنت ہوجو ہمارے بارے میں ایسی بات کہتے ہیں جو ہم خود اپنے بارے میں نہیں کہتے،خدا کی لعنت ہو اس پر جو ہمیں اس خدا کی عبودیت سے جدا کردے کہ جس نے ہمیں خلق کیا ہے۔اور جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔اور اسی کے ہاتھ میں ہماری تقدیر ہے۔
۳)آپ ؑ نے اپنے شیعوں سے مخاطب ہو کر فرمایاکہ تم اپنے جوانوں کے بارے میں غالیوں سے ہوشیار رہو کہیں وہ ان کو خراب نہ کر دیں۔غالی خدا کی بد ترین مخلوق ہیں یہ خدا کی عظمت کو کم کرتے ہیں اور بندگانِ خدا کی ربوبیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
۴) ہمارے بد ترین دشمن بھی ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتے جتنا یہ غالی ہمیں پہنچا رہے ہیں۔
ٓامام علی رضا ؑ کے غالیوں کے بارے میں ارشادات:۔
۱) آپ ؑ نے فرمایا کہ جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ رزق دینا اور خلق کرنا ہم آئمہ ؑ پر منحصر ہے تو اس شخص نے شرک کیا۔

۲)آپ ؑ فرماتے ہیں کہ ہمارے مخالفین نے ہمارے بارے میں تین قسم کے فضائل جعل کیئے ہیں۔ان میں سے ایک غلو سے متعلق احادیث ہیں جو ہم کو بشریت سے نکال کر ربوبیت سے نزدیک کرنے کے لیئے ہیں۔دوسری وہ احادیث ہیں جو ہماری تنقیص میں بنائی گئی ہیں تاکہ ہمیں خدا کی طرف سے عطا کر دہ مقام سے گرایا جائے۔تیسری ہمارے مخالفین کو سب و شتم(برا کہنا)کرنے کے لئے وضع کی گئی ہیں جبکہ نہ ہم نے کسی دشمن کو سب کیا ہے اور نا سب وشتم کرنے کے لئے کہا ہے۔ان احادیث جعل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب لوگ ہمارے بارے میں غلو کریں گے تو لوگ ہمارے حقیقی دوستوں کو کافر قرار دے دیں گے کہ یہ لوگ اپنے آئمہ ؑ کے بارے میں غلو کرتے ہیں۔جب کہ ہماری تنقیص سن کر ہماری تنقیص کریں گے اور اگر لوگ ہمارے دشمنوں کا نام لے کر سب وشتم کریں گے تو وہ لوگ ہمارا نام لے کر سب و شتم کریں گے۔
امام علی نقی ؑ کا غالیوں کی مذمت میں ارشاد:۔
آپ ؑ نے فرمایا کہ ان (غالیوں) پر خدا کی لعنت ہو۔میری نظر وں میں یہ نا میرے محب ہیں اور نا میرے شیعہ ہیں۔خدا کی قسم اللہ نے محمد ﷺ اور باقی انبیاء کو حنیفیت، نماز، روزہ،حج اور ولایت کے ساتھ مبعوث کیا۔نبی اکرم ﷺ نے پوری زندگی اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی ہے۔ان کے بعد ان کی عترت میں سے ہم ان کے اوصیاء خدا کے بندے ہیں۔ہم خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔اگر ہم اس کی اطاعت کریں گے تو وہ ہم پر رحم کرے گا۔اگر ہم نے اس کی نا فرمانی کی تو وہ ہمیں عذاب دے گا۔خدا پر ہماری کوئی حجت نہیں ہے بلکہ ہم پر اور تمام مخلوق پر اللہ کی حجت ہے۔
امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہم کا غالیوں کے بارے میں ارشاد :۔
امام مہدی عجل اللہ فرجہم نے اپنے چوتھے نائب محمد بن سمری کو ایک توقیع(خط) کے ذریعے غالیوں کے عقائد کے بارے میں اپنے شیعوں کو خبردار کیا۔اس خط میں آپ عجل اللہ فرجہم فرماتے ہیں کہ یہ غالی لوگ جو کچھ اللہ کی وصف کرتے ہیں وہ اس سے بلند تر ہے۔ہم نہ تو اس کے علم میں اس کے شریک ہیں نہ اس کی قدرت میں اس کے شریک ہیں ۔اس کے سوا کوئی علمِ غیب نہیں جانتا جیسا کہ وہ اپنے کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے (اے رسولﷺ) کہہ د و سوائے خدا کے زمین و آسمان والی کوئی مخلوق غیب نہیں جانتی، میں اور میرے آبائے اولین جیسے حضرات آدم ؑ ،نوح ؑ ، ابراہیم و موسیٰ علیہم السلام اور آباےٗ آخرین جیسے محمد ﷺ اور جناب علی ؑ اور دیگر آئمہ ؑ جو میرے وقت تک ہوئے سب خدا کے بندے ہیں۔خدا کا ارشاد ہے جو میرے ذکر سے روگردانی کرے گا اس کے لیئے زندگی تنگ ہے، ہمیں(آئمہ معصومین ؑ ) جاہل،احمق اور ایسے نام نہاد شیعوں نے جن کے دین و اعتقاد سے مچھر کے پر بھی زیادہ وزنی ہے بہت اذیت پہیچائی ہے۔میں اس خدا کو گواہ کر کے کہتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ،رسول ﷺ کو ،کرتا ہوں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ ہم عالم الغیب ہیںیا یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کی قدرت میں شریک ہیں۔اس طرح میں اس سے بھی بیزار ہوں جو ہمیں اس محل ومقام کے علاوہ جو خدا نے ہمارے لیئے منتخب کیا ہے کسی اور محل ومقام پر فائز سمجھتا ہے۔یا جو میں نے تمھاری سامنے اپنے متعلق بیان کر دیا ہے اس سے تجاوز کرتا ہے۔اور میں تم کو گواہ کر کے کہتا ہوں کے جس شخص سے ہم بیزار ہو جائیں اس سے خدا ،اس کے ملائکہ اور اس کے رسول ﷺ اور اولیاء بھی بیزار ہو جاتے ہیں۔
میں اپنے اس خط کو تمھاری اور ہر اس شخص کی گردن میں امانت قرار دیتا ہوں جو اسے سنے کہ وہ اسے ہمارے کسی شیعہ سے نہ چھپائے تاکہ میرے تمام ماننے والے اسے جان لیں ۔شاید اس طرح خدا انہیں معاف کر دے اور وہ دین حق کی طرف پلٹ آئیں۔جو شخص بھی اس خط کو سن کر بھی اس عقیدے پر کاربند نا ہوا کہ جس کا میں نے حکم دیا ہے تو اس پر خدا ،رسول ﷺ اور تمام بر گزیدہ بندوں کی لعنت نازل ہو گی۔
آئمہ معصومین ؑ کی ان احادیث کو بیان کرنے کے بعد اب ہم ان غالیوں کے عقائد پر بات کریں گے جو شیعوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ہمار اان عقائد پر بات کرنے کا مقصد ایک تو یہ ہے کہ کہ ہم قوم کے لوگوں کہ ان گمراہ عقائد سے آگاہ کر سکیں تو دوسری طرف ہمارا مقصد یہ بھی ہے کہ غیر شیعہ مسلمان جو ان غالیوں کے عقائد کو شیعہ اثناء عشری کے عقائدثابت کر کے شیعت کو بدنام کر رہے ہیں ان تک بھی یہ پیغام پہنچایا جائے کہ ان غالیوں کے عقائد کا شیعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اور شیعت کے عقائد صرف قرآن ،رسول اکرم ﷺ اور اہلیبیت ؑ کی مستند احادیث اور عقل کے مطابق ہیں۔شیعت کے عقائد کا کسی قسم کے باطنی عقائد سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔

غالیوں کے تقریباًتمام گروہ اس بات کے قائل ہیں کہ اہلیبیت ؑ سے متعلق ہمارے پاس جتنی بھی احادیث ہیں وہ بالکل صحیح ہیں اور امام زمان عجل اللہ فرجہم کی غیبت کے ایک طویل دور کے باوجود ان احادیث میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے۔تمام احادیث کے صحیح ماننے کا یہ عقیدہ نہ تو عقل کے مطابق ہے اور نہ ہی آئمہ ؑ کی تعلیمات سے مطابقت رکھتا ہے۔کیونکہ یہ بات خلافِ عقل ہے کہ امام زمان عجل اللہ فرجہم کی غیبت کا ایک طویل دور موجود ہو اور اس دوران مختلف حالات و واقعات بھی درپیش رہے ہوں اور احادیث تمام تحریفات سے محفوظ رہی ہوں۔قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لیا ہے،اس لیے صرف قرآن کو ہی تحریف سے پاک کہا جا سکتا ہے۔
خود آئمہ معصومین ؑ فرماتے ہیں کہ جب تم تک ہماری کوئی حدیث پہنچے تو اس کو قرآن پر پرکھ لیا کرو اگر وہ حدیث قرآن کے مطابق ہے تو وہ ہماری ہو گی اور اگر وہ قرآن کے مطابق نہیں تو اس کو چھوڑ دو۔یعنی خود آئمہ ؑ اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ صرف قرآن ہی وہ کتاب ہے جو تا قیامت ہر قسم کے تحریف سے پاک رہے گی۔ ہمارے تمام مجتہدین اس بات پر متفق ہیں کہ ہماری تمام احادیث مستند نہیں ہیں۔
غالیوں کا تمام احادیث کہ صحیح تسلیم کرنے کا یہ عقیدہ ہی دراصل تمام گمراہ عقائد کی جڑ ہے۔کیونکہ یہ غالی ان تمام جھوٹی اور ضعیف احادیث کو ہی بنیا

دعا کا طالب
محمد مرتضٰی ترابی