Pages

دربار شام ميں امام سجاد (ع) کا تاريخی خطبہ

دربار شام ميں امام سجاد (ع) کا تاريخی خطبہ

امام سجاد (ع) خاندان رسالت (ص) کے دوسرے افراد کے ہمراہ کوفہ اور شام لے جائے جاتے ہيں اور اپني پھوپھی محترمہ سيدہ زينب (س) کے ہمراہ فاسد و بدعنوان اموي خاندان کی حقيقت بےنقاب اور ثاراللہ (ع) کے مقدس مشن کو صحيح اور سيدھے راستے کے طور پر متعارف کرکے حسينی مشن کی تکميل کا اہتمام کيا-
امام سجاد (ع) نے کوفہ اور شام ميں بھی اور کوفہ سے شام کے راستے ميں بھی، اپنے افشاء کر دينے والے خطبوں کے ذريعے قيام حسيني (ع) کے اصولوں اور فلسفے سے لوگوں کو آگاہ فرمايا جبکہ حضرت زينب (س) اور فاطمہ صغري (س) کے خطبے بھي امام سجاد (ع) کے زير نگراني و ہوا کرتے تھے-
امام سجاد (ع) نے ہر موقع اور مناسبت سے فائدہ اٹھا کر تحريک عاشورا کو زندہ رکھنے کي کامياب کوشش کی؛ جب پانی لايا جاتا آپ (ع) اپنے والد ماجد کو ياد کرتے اور جب چچا ابوالفضل (ع) کے بچوں کو ديکھتے، آنسو بہاتے اور جب کوئی بکرا يا دنبہ ذبح کرتا تو آپ (ع) پوچھتے: کيا تم نے اس کو پانی پلايا ہے؟ جب وہ ہاں ميں جواب ديتے تو آپ (ع) فرماتے: ليکن دشمنوں نے ميرے بابا حسين (ع) کو پياسا شہيد کيا؛ اور آپ (ع) کے يہ اقدامات امام حسين (ع) کی الہي تحريک کو فراموش نہيں ہونے ديتے تھے-
دو صفر سنہ 61 ہجري کے دن خاندان رسالت (ص) کو ايسے حال ميں شام ميں داخل کيا گيا کہ عرصہ چاليس سال سے اس سرزمين پر اميرالمۆمنين (عليہ السلام) اور اس خاندان کے خلاف زہريلی تشہيری مہم چلائی گئی تھی اور معاويہ نے زرپرست کرائے کے خطيبوں کو مامور کيا تھا کہ منبر رسول (ص) پر بيٹھ کر رسول اللہ (ص) کے بھائی اميرالمۆمنين (ع) کو برا بھلا کہا جائے اور آپ (ع) کے خلاف دشنام طرازی کريں-
اس عرصے ميں اہل شام نے اسلام کو امويوں کی آنکھ سے ديکھا تھا اور معاويہ کي جھوٹی تشہيری مہم کی وجہ سے وہ امويوں کو رسول اللہ (ص) کے پسماندگان اور اہل خاندان کے طور پر جانتے تھے- انہيں رسول اللہ (ص) کے ديدار کا شرف حاصل نہيں ہوا تھا اور انہيں امويوں نے بتايا تھا اور صرف يہی جانتے تھے کہ ايک "خارجي" کو قتل کيا گيا ہے جس نے "امير مۆمنين يزيد بن معاويہ کے خلاف خروج کيا تھا" اور اب اس کے خاندان کو قيد کرکے شام لايا جارہا ہے؛ جبکہ کوفيوں کو معلوم تھا کہ قتل اور اسير کئے جانے والے افراد کون ہيں اور کس خاندان سے تعلق رکھتے ہيں- چنانچہ شاميوں نے "اس فتح کے شکرانے کے طور پر شہر کی تزئين و آرائش کی تھی اور جشن منارہے تھے-
امام سجاد (ع) کا مۆثر ترين اور حساس ترين خطبہ وہی تھا جو آپ (ع) نے دمشق کی مسجد ميں ديا اور اس کی وجہ سے شام کے عوام نے معاويہ کے زمانے سے لے کر يزيد کے زمانے تک ہونے والي يزيدی تشہير کی حقيقت کو سمجھ ليا اور خاندان ابوسفيان کے سلسلے ميں عوام کي نگاہ بالکل بدل گئي-
اس مجلس ميں يزيد نے اپنے ايک درباري خطيب کو حکم ديا کہ علی اور آل علی (عليہم السلام) کی مذمت اور الميۂ کربلا کی توجيہ اور يزيد کی تعريف کرے-
خطيب منبر پر چڑھ گيا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد اميرالمۆمنين اور امام حسين (عليہما السلام) کي بدگوئی اور معاويہ اور يزيد کی تمجيد و تعريف ميں مبالغہ کيا اور طويل خطبہ ديا- اسی حال ميں امام سجاد (عليہ السلام) نے کرائے کے خطيب سے مخاطب ہو کر بآواز بلند فرمايا: اے خطيب! وائے ہو تم پر کہ تم نے مخلوق کی خوشنودي کے وسيلے سے خالق کا غضب خريد ليا- اب تم دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ ميں اپنا ٹھکانہ تيار سمجھو اورخود کو اس کے لئے تيار کرو- اور پھر يزيد سے مخاطب ہوئے اور فرمايا: اجازت دو گے کہ ميں بھی لوگوں سے بات کروں؟
يزيد امام (ع) کے رسوا کردينے والے کلام سے خوفزدہ تھا چنانچہ اس نے اجازت نہيں دي- مگر يزيد کے بيٹے معاويہ نے اپنے باپ سے کہا: اس مرد کا خطبہ کتنا مۆثر ہوگا! کہنے دو جو وہ کہنا چاہتا ہے!
يزيد نے جواب ديا: تم اس خاندان کي صلاحيتوں سے بےخبر ہو انہيں علم و فصاحت ايک دوسرے سے ورثے ميں ملتی ہے، مجھے خوف ہے کہ اس کا خطبہ شہر ميں فتنہ انگيزي کا سبب بنے اور ہمارا  گريبان بھی پکڑ لے-
تاہم عوام نے بھی اصرار کيا کہ امام سجاد (ع) کو منبر پر بيٹھنے ديا جائے-
يزيد نے کہا: وہ منبر پر بيٹھے گا تو نيچے نہيں اترے گا جب تک مجھے اور خاندان ابوسفيان کو رسوا نہ کردے-
آخر کار شاميوں کے اصرار پر يزيد نے اتفاق کيا کہ امام (ع) منبر پر رونق افروز ہوں-
آپ (ع) نے منبر پر بيٹھ کر ايسا خطبہ ديا کہ کہ لوگ کی آنکھيں اشک بار ہوئيں اور ان کے قلب خوف و وحشت سے بھر گئے-
امام سجاد (عليہ السلام) نے فرمايا:
فرمايا: اے لوگو! خداوند متعال نے ہم خاندان رسول (ص) کو چھ خصلتوں سے نوازا اور سات خصوصيات کی بنا پر ہميں دوسروں پر فضيلت عطا فرمائی؛ ہماري چھ خصلتيں: علم، حلم، بخشش و سخاوت، فصاحت اور شجاعت، اور مۆمنين کے دل ميں وديعت کردہ محبت سے عبارت ہيں اور ہميں برتري عطا کی سات خصوصيات کی بنا پر: خدا کے برگزيدہ پيغمبر حضرت محمد (ص)، صديق اکبر (اميرالمۆمنين علی) جعفر طيار، شير خدا اور شير رسول خدا حمزہ سيدالشہداء، اس امت کے دو سبط حسن و حسين (ع)، زہرائے بتول اور مہدي امت (عليہم السلام) ہم سے ہيں-
لوگو! [اس مختصر تعارف کے بعد] جو مجھے جانتا ہے سو جانتا ہے اور جو مجھے نہيں جانتا ميں اپنے خاندان اور آباء و اجداد کو متعارف کرواکر اپنا تعارف کراتا ہوں-
لوگو! ميں مکہ و مِنٰی کا بيٹا ہوں، ميں زمزم و صفا کا بيٹا ہوں، ميں اس بزرگ کا بيٹا ہوں جس نے حجرالاسود کو اپنی عبا کے پلو سے اٹھاکر اپنے مقام پر نصب کيا، ميں بہترينِ عالم کا بيٹا ہوں، ميں بہترين طواف کرنے والوں اور بہترين لبيک کہنے والوں کا بيٹا ہوں؛ ميں اس کا بيٹا ہوں جو براق پر سوار ہوئے، ميں اس کا بيٹا ہوں جس نے ايک ہی شب مسجدالحرام سے مسجدالاقصٰی کی طرف سير کي، ميں اس کا بيٹا ہوں جس کو جيرائيل سدرۃالمنتہی تک لے گيا، ميں اس کا بيٹا ہوں جو زيادہ قريب ہوئے اور زيادہ قريب ہوئے تو وہ تھے دو کمان يا اس سے کم تر کے فاصلے پر؛ ميں اس کا بيٹا ہوں جس نے آسمان کے فرشتوں کے ساتھ نماز ادا کی؛ ميں اس رسول (ص) کا بيٹا ہوں جس کو خدائے بزرگ و برتر نے وحی بھيجی؛ ميں محمد مصطفی (صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم) اور علی مرتضیٰ (عليہ السلام) کا بيٹا ہوں.

ميں اس کا بيٹا ہوں جس نے رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ و سلم کی سامنے اور آپ (ص) کے رکاب ميں دو تلواروں اور دو نيزوں سے جہاد کيا اور دوبار ہجرت کي اور دوبار رسول اللہ (صلی اللہ عليہ و آلہ و سلم) کے ہاتھ پر بيعت کی اور بدر و حنين ميں کفار کے خلاف شجاعانہ جہاد کيا اور لمحہ بھر کفر نہيں برتا؛ ميں اس کا بيٹا ہوں جو مۆمنين ميں سب سے زيادہ نيک و صالح، انبياء (عليہم السلام) کا وارث، ملحدين کا قلع قمع کرنے والا، مسلمانوں کا امير، مجاہدوں کا روشن چراغ، عبادت کرنے والوں کی زينت، خوف خدا سے گريہ و بکاء کرنے والوں کا افتخار ہے، ميں سب سے زيادہ صبر و استقامت کرنے والے اور آل يسين (يعنی آل محمد (ص)) ميں سب زيادہ قيام و عبادت کرنے والے والے کا بيٹا ہوں- ميں اس کا بيٹا ہوں جس کو جبرائيل (ع) کي تائيد و حمايت اور ميکائيل (ع) کی مدد و نصرت حاصل تھی، ميں مسلمانوں کی ناموس کے محافظ و پاسدار کا بيٹا ہوں- ميں اس کا بيٹا ہوں جو مارقين (جنگ نہروان ميں خوارج)، ناکثين (پيمان شکنوں اور اہل جمل) اور قاسطين (صفين ميں معاويہ اور اس کے انصار) کے خلاف لڑا اور اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد کيا-
ميں تمام قريش کے بہترين فرد کا بيٹا ہو، ميں اولين مۆمن کا بيٹا ہوں جس نے خدا اور رسول (ص) کی دعوت پر لبيک کہا اور سابقين ميں سب سے اول، متجاوزين اور جارحين کو توڑ کر رکھنے والا، مشرکين کو نيست و نابود کرنے والا تھا اور منافقين کے لئے خدا کے تيروں ميں سے ايک تير کی مانند تھا، خدا کے بندوں کے لئے زبان حکمت، دين خدا کي مدد کرنے والا اور اس کے امور کا ولي اور حکمت خدا کے کا بوستان اور علم الہی کا حامل تھا-
وہ جوانمرد، سخی، حسين چہرے کے مالک، تمام نيکيوں اور اچھائيوں کے جامع، سيد و سرور، پاک و طاہر، بزرگوار، ابطحی، اللہ کی مشيت پر بہت زيادہ راضی، دشواريوں ميں پيش قدم، صابر و با استقامت، ہميشہ روزہ رکھنے والے، ہر آلودگی سے پاک، بہت زيادہ نمازگزار اور بہت زيادہ قيام کرنے والے تھے؛ انھوں نے دشمنان اسلام کی کمر توڑ دي، اور کفر کی جماعتوں کا شيرازہ بکھير ديا؛ وہ قلب ثابت و قوی اور محکم ارادے اور عزم راسخ کے مالک تھے؛ اور شير دلاور کی طرح، جب جنگ کے دوران نيزے آپس ميں ٹکراتے اور جب فريقين کی اگلی صفيں قريب ہوجاتيں، کفار کو چکی کی مانند پيس ديتے تھے اور آندھی کی مانند منتشر کرديتے تھے- وہ حجاز کے شير اور عراق کے بزرگ اور آقا و سرور ہيں-
وہ حجاز کے شير اور عراق کے سيد و آقا ہيں جو مکی و مدنی و خيفی و عقبی، بدری و اُحُدی و شجری اور مہاجری ہيں جو تمام ميدانوں ميں حاضر رہے اور وہ سيدالعرب ہيں، ميدان جنگ کے شير دلاور، اور دو مشعروں کے وارث (اس امت کے دو) سبطين "حسن و حسين (ع)" کے والد ہيں؛ ہاں! يہ ميرے دادا علی ابن ابی طالب عليہ السلام ہيں-
اور پھر فرمايا: ميں دو جہانوں کي سيدہ فاطمہ زہراء (عليہا السلام) کا بيٹا ہوں---
حضرت سجاد نے يہ مفاخرہ آميز کلام اس قدر جاری رکھا کہ لوگوں کی آوازيں آہ و بکاء سے بلند ہوئيں- يزيد شديد خوف ميں مبتلا ہوا کہ کہيں اہل شام اس کے خلاف اٹھ نہ کھڑے ہوں چنانچہ اس نے مۆذن کو حکم ديا کہ اٹھ کر اذان دے اور امام سجاد (ع) کے کلام کو قطع کرديا-
جب مۆذن نے کہا:
اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ
حضرت سجاد (ع) نے فرمايا: کوئی چيز خدا سے بڑي نہيں ہے-
جب مۆذن نے کہا:
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
علي بن الحسين (ع) فرمايا: ميرے بال، ميری جلد، ميرا گوشت اور ميرا خون سب اللہ کی وحدانيت پر گواہی ديتے ہيں-
مۆذن نے کہا:
أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ
تو امام (ع) نے سر سے عمامہ اتارا اور مۆذن سے مخاطب ہوکر فرمايا: اے مۆذن! تمہيں اسی محمد (ص) کا واسطہ، يہيں رک جاۆ ، تا کہ ميں ايک بات کہہ دوں؛ اور پھر منبر کے اوپر سے يزيد بن معاويہ بن ابی سفيان سے مخاطب ہوئے اور فرمايا: اے يزيد! کيا يہ محمد (ص) ميرے نانا ہيں يا تمہارے؟ اگر کہوگے کہ تمہارے نانا ہيں تو جھوٹ بولوگے اور کافر ہوجاۆگے اور اگر سمجھتے ہو کہ ميرے نانا ہيں تو بتاۆ کہ تم نے کيوں ان کی عترت اور خاندان کو ظلم کے ساتھ قتل کيا، ان کے اموال کو لوٹ ليا اور ان کے خاندان کو اسير بنايا؟! امام سجاد (ع) نے يہ جملے ادا کئے اور اپنے گريبان کو چاک کيا اور روئے اور فرمايا:
خدا کی قسم! اگر اس دنيا ميں کوئی ہو جس کا جدّ رسول اللہ ہو وہ صرف ميں ہوں؛ پس تم نے ميرے باپ کو کيوں قتل کيا اور ہميں روميوں کی طرح قيد کيوں کيا- اور فرمايا: اے يزيد تم اس عظيم جرم کا ارتکاب کرنے کے بعد بھی کہتے ہو کہ "محمد (ص) رسول خدا ہيں؟! اور قبلہ رخ ہوکر کھڑے ہوتے ہو؟! واے ہو تم پر! قيامت کے روز ميرے جد (رسول اللہ اور اميرالمۆمنين) اور ميرے والد (امام حسين) تمہارے دشمن ہيں-
يزيد نے چلا کر مۆذن سے اقامہ کہنے کو کہا اور لوگوں کے درميان شور اٹھا اور بعض نے نماز ادا کی اور بعض نے مسجد ترک کردی اور منتشر ہوئے-
امام سجاد عليہ السلام نے اپنا بليغ خطبہ مکمل کيا مسجد ميں موجود لوگوں کو سخت متاثر کيا اور ان کو بيدار کرديا اور انہيں تنقيد و احتجاج کی جرات ملی-



حولہ جات:
1- بحار الانوار ـ ج 45 ص 139