Pages

صدا لگائی تو پُرسانِ حال کوئی نہ تھا

صدا لگائی تو پُرسانِ حال کوئی نہ تھا
گمان تھا کہ ہر اک شخص ہمنوا ہو گا....زبردست

برسی رقم طراز هیں امیرالمومنین علیه السلام خوارج سے جنگ کرنے کیلیۓ جا رهے تھے که راستے میں آپ کو ایک منجم ملا جسے دهقاں فارسی کها جاتا تھا اس نے آپ کو لشکر کشی سے روکا اور کها آپ اس وقت لشکر لے کر مت جائیں کیونکه اس وقت نحس ستارے طلوع هوچکے هیں جس کی وجه سے اهل حق کو شکست اور اهل باطل کو فتح نصیب هوگی - اس وقت مریخ برج ثور میں مقیم هے اور آپ کے برج پر اس وقت دو ستاروں کی حکومت هے اگر آپ نے جنگ کی تو آپ کو شکست هوگی مولا امیر امومنین علیه السلام نے اس سے کها کیا سفر کرنے والے ستاروں تو چلاتا هے اور میرے متعلق حادثات کی پیشگوئ کرتا هے اور ستاروں کو منٹ اور سیکنڈ کے حساب سے منتقل کرتا هے اگر بالفرض ایسا هے تو پهر مجھے بتاؤ "سراری" کیا هیں - "دراری" کیا هیں اور "مدبرات" کی شعاؤں کی مقدار کیا هے -نجومی نے کھا میں اسطرلاب(ایک خاص قسم کا آله جس سے ستاروں کی بلندی کا اندازه لگایا جاتا هے) میں دیکھ کر هی آپ کو کچھ بتاؤں گا - پهر مولا نے فرمایا : کیا تجھے معلوم هے که کل رات میزان میں کس چیز کی تکمیل هوئ - اور کیا جانتے هو برج سرطان میں کونسا ستاره ٹھرا اور کیا تجھے معلوم هے که زبرقان پر کونسی آفت نازل هوئ ? نجومی نے کھا : مجھے کوئ علم نھیں هے پهر آپ نے فرمایا جانتے هو که رات ملک چین کی حکومت ایک گھرانے سے دوسرے گھرانے میں منتقل هوئ هے- اور برج ماچین میں انقلاب آگیا ? اور بحیره ساره خشک هوگیا - بحیره حشرمه میں پانی آگیا اور سقلبه میں چٹان کا دروازه ٹوٹ گیا شاه روم کے بھائ نے بھائ کا تخته الٹ دیا اور اس کے تخت پر قابض هوگیا - اور قسطنطنیه کبری میں سونے کے کنگرے گر پڑے-  اور سراندیل کی دیوار ٹوٹ گئ اور یهودیوں کا کاهن اعظم گم هوگیا - وادی نمل کی چیونٹیوں میں جوش بڑھ گیا - اور ستر هزار جهانوں کو خوش بختی نصیب هوئ - اور هر عالم میں ستر هزار افراد پیدا هوۓ اور آج رات اتنے هی مریں گے - کیا تمھیں ان باتوں کا کوئ پته هے ? نجومی نے کها مجھے کچھ معلوم نهیں پهر آپ نے فرمایا کیا تجھے خاموش شهابوں اور ستاروں کا بھی کچھ پته هے اور کیا تجھے شمس ذات الزوائب کا بھی کچھ علم هے جو انوار کے ساتھ طلوع هوتے هیں اور سحر کے وقت غروب هوتے هیں - نجومی نے کها مجھے کچھ پته نهیں هے پهر آپ ع نے فرمایا کیا تو ان ستاروں کو جانتا هے جب وه طلوع هوتے هیں تو دنیا میں فریب هوتا هے اور جب وه غروب هوتے هیں تو مصیبت نازل هوتی هے جب وه طلوع هوۓ تھے تو قابیل نے هابیل کو قتل کیا تھا اور طلوع هوں گے تو دنیا تباه هوجاۓ گی - نجومی نے کها میں نهیں جانتا پهر مولا نے فرمایا اس سے معلوم هوتا هے که تجھے آسمان کے متعلق کچھ معلوم نهیں هے - اب میں تجھ سے اس زمیں کے قریب ترین حصه کے متعلق پوچھنا چاهتا هوں مجھے یه بتا میرے گھوڑے کے دائیں پاؤں کے نیچے کیا هے اور بائیں پاؤں کے نیچے کیا هے اور ان میں نفع بخش چیز کس سم کے نیچے اور نقصان ده چیز کس سم کے نیچے هے- نجومی نے کها میں آسماں کی به نسبت زمین کے امور سے زیاده نا واقف هوں پهر آپ (علیه السلام) نے حکم دیا که آپ کے گھوڑے کے دائیں سم کی زمین کو کھودا جاۓ جب اسے کھودا گیا تو اس کے نیچے سے سونے کا خزانه برآمد هوا پهر آپ نے حکم دیا که گھوڑے کے بائیں سم کی زمین کو کھودا جاۓ - جب اس جگه کو کھودا گیا تو وهاں سے ایک اژدھا برآمد هوا جو که نجومی کے گلے میں لپٹ گیا نجومی نے آپ سے امان طلب کی - آپ نے فرمایا : امان ایمان کی شرط قبول کرنے پر مل سکتی هے - نجومی نے کها : میں ساری زندگی آپ کے قدموں میں جھک کر گزاروں گا - آپ نے فرمایا : اس کی ضرورت نهیں سجده خدا کا کرو اور میرا واسطه دے کر اس سے حاجات طلب کرو - پهر آپ نے اس سے فرمایا : سمر سقیل هم نجوم قطب اور فلک کے پرچم هیں اور اس علم کو صرف هم جانتے هیں یا همارے علاوه هندوستان کا ایک گھرانه یه علم جانتا هے -(مشارق انوار الیقین صفحه 82-83)

ﺁﺝ ﺳﺎﻗﯽ ﺷﺮﺍﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ
ﺗﺸﻨﮕﯽ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ،

ﭘﻮﻧﭽﮫ ﮈﺍﻟﻮ ﻧﮧ ﺁﻧﮑﮫ ﺳﮯ ﮐﺎﺟﻞ
ﮐﭽﮫ ﺗﻮ ﺧﻨﺠﺮ ﭘﮧ ﺁﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ،

ﺗﻢ ﺳﻨﻮﺍﺭﻭ ﻧﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻟﻔﻮﮞ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﯼ ﺣﺎﻟﺖ ﺧﺮﺍﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ،

ﭼﺎﻧﺪ ﺑﺎﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﺁﺩﮬﮯ ﺭﺥ ﭘﺮ ﻧﻘﺎﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ،

ﺍﻥ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺁﺝ ﺫﮐﺮِ ﮔﻼﺏ ___ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ,

ﺍﻧﮑﯽ ﭼﻮﮐﮭﭧ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﻟﻮ "ﻣﺤﺴﻦ"
ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺎﺭﮮ ﺛﻮﺍﺏ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ ۔۔۔

سیّد نصیر الدین نصیر کا ایک خوبصورت کلام

تڑپ اٹھتا ہے دل، لفظوں میں دہرائی نہیں جاتی
زباں پر کربلا کی داستاں لائی نہیں جاتی

حسین ابنِ علی کے غم میں ہوں دنیا سے بیگانہ
ہجومِ خلق میں بھی میری تنہائی نہیں جاتی

اداسی چھا رہی ہے روح پر شامِ غریباں کی
طبیعت ہے کہ بہلانے سےبہلائی نہیں جاتی

کہا عبّاس نے افسوس، بازو کٹ گئے میرے
سکینہ تک یہ مشکِ آب لےجائی نہیں جاتی

جتن ہر دور میں کیا کیا نہ اہلِ شر نے کر دیکھے
مگر زھرا کے پیاروں کیپذیرائی نہیں جاتی

دلیل اس سے ہو بڑھ کر کیا شہیدوں کی طہارت پر
کہ میّت دفن کی جاتی ہے، نہلائی نہیں جاتی

طمانچے مار لو، خیمے جلا لو، قید میں رکھ لو
علی کے گل رُخوں سے بُوئے زھرائی نہیں جاتی

کہا شبّیر نے، عبّاس تم مجھ کو سہارا دو
کہ تنہا لاشِ اکبر مجھ سے دفنائی نہیں جاتی

حُسینیّت کو پانا ہے تو ٹکّر لے یزیدوں سے
یہ وہ منزل ہے جو لفظوں میں سمجھائی نہیں جاتی

وہ جن چہروں کو زینت غازۂخاکِ نجف بخشے
دمِ آخر بھی ان چہروں کی زیبائی نہیں جاتی

نصیر آخر عداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی

عجب مذاق ہوا اسلام کی تقدیر کے ساتھ ،
کٹا حسینؑ کا سر  نعرہ تکبیر کے ساتھ .
(علامہ اقبال)