Pages

فخر سے کہو ہم شیعہ ہیں

فخر سے کہو ہم شیعہ ہیں
پیغمبر نوگانوی
شیعہ مذہب! نہایت صاف ستھرا ، عقلی ، منطقی اور نجات کا ضامن مذہب ہے جس میں تلاش کرنے کے با وجود بھی نقص نظر نہیں آئے گا ، لیکن دانا دشمن نے نادان دوستوں کو اس مذہب کی بیخ کنی کے لئے میدان میں اتار دیا ہے ، جس کا مرکز پاکستان کے صوبہ پنجاب کو بنایا ہوا ہے اور وہ تمام علمی و روحانی اصطلاحیں جو معصومین یا ان کے نائبین نے شیعہ مذہب کے پیروکاروں کو عطا کی تھیں انہیں پاکستانی پنجاب کے جاہل ،چرسی اور نشیڑیوں کی ایجاد کردہ اصطلاحوں سے تبدیل کیا جا رہا ہے جو بے حد خطرناک ثابت ہو رہا ہے ، رسول اسلام (ص) اور اہل البیت (ع) نے امام علی (ع) و دیگر گیارہ ائمہ کی امامت کے معتقدین کے لئے لفظ ’’شیعہ ‘‘ استعمال فرمایا ہے ، اور معصومین (ع) سے مروی بے شمار حدیثوں میں لفظ ’’شیعہ‘‘ استعمال کیا گیا ہے لیکن شیعوں کو چھوٹے چھوٹے گروپوں میں تقسیم کرنے کے لئے ، مولائی ، تبرّائی ،مناجاتی ، ملنگ اور اخباری وغیرہ کے مختلف ناموں سے مشہور کیا جا رہا ہے اور پھر یہ گروپ کبھی آپس میں متحد نہ ہو سکیں اس لئے عقائد میں تحریفات کی جا رہی ہیں اور نئے نئے عقائد گھڑ کر ان گروپوں کے درمیان نشر کئے جا ر ہے ہیں ، اہل نظر بخوبی واقف ہیں اگر کسی مذہب یا قوم کو نابود کرنا ہوتا ہے تو اس سے اس کا کلچر چھین لیا جا تا ہے ، ہمارے سامنے ترکی بہترین مثال ہے جس سے صرف اس کا رسم الخط چھین لیا گیا تھا تو ترکی آج تک نہ سنبھل سکا جبکہ زبان یا رسم الخط کوئی بھی ہو اس کو سیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا لیکن مادری زبان سے سمجھوتا نہیں ہونا چاہئے ، اسی طرح ہندوستانی شیعوں کے درمیان پاکستانی پنجاب کا کلچر رائج کیا جا رہا ہے ، بہت ہی خطرناک صورتحال ہو جائے گی اُس روز جب یہ پنجابی کلچر دھیرے دھیرے ہمارے سماج کا جزء بن جائے گا ، سلام کی جگہ یا علی مدد کہنا ، چرس کو علی بوٹی کہہ کر پی جانا، لباس اتار کر مجمع عام میں سینہ زنی کرنا ، صلواۃ کے بجائے خود ساختہ نعرے لگانا، ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کے بجائے مجلس یا محفل میں "جیو جیو" کی صدائیں بلند کرنا وہ اعمال ہیں جو پاکستانی پنجاب سے مخصوص ہیں اور ہمارے یہاں بھی سرایت کر رہے ہیں اور ان میں شرعی اشکال بھی پایا جاتا ہے ، کیونکہ کلام کی ابتدا "سلام" سے کرنے کی تاکید روایات میں موجود ہے اور سلام کی جگہ ’’یا علی مدد‘‘ کہنا، معصومین کی روایات کی کھلی خلاف ورزی ہے ، اسی طرح "نشہ" حرام ہے اور یہ لوگ اسے امام علی (ع) کے مقدس نام سے منسوب کرکے توہین کرتے ہیں اور حرام کے مرتکب ہوتے ہیں ، مجمع عام میں لباس اتار کر برہنہ ہونا حرام ہے اور یہ لوگ اس کو بھی انجام دیتے ہیں ، بعض وہ چیزیں بھی ہیں جن میں شرعی اشکال تو نہیں ہے لیکن ہمارے کلچر کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کافی ہیں ، ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کی جگہ ’’جیو سید ‘‘جس کے اسٹیکر اب بائکوں اور عمومی مقامات پر نظر آنے لگے ہیں حتی کے شعرا اور ذاکرین کی حوصلہ افزائی کے لئے بھی ’’جیو جیو ‘‘ کے نعرے لگنے لگے ہیں جب کہ ہندوستان، بالخصوص اتر پردیش میں ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا ، واہ ! واہ ! اور سبحان اللہ کی صداؤں سے حوصلہ افزائی کی جاتی تھی اسی طرح عزاداری منجملہ ماتم داری کو ’’پرسہ داری‘‘ کہنے لگے ہیں اور اپنے آپ کو "مولا (ع) کا نوکر" ، یا مذہبی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے اپنے اس عمل خیر کو ’’مولا کی نوکری‘‘ کہنے لگے ہیں ، تاریخ شاہد ہے مولا کے یہاں نوکر چاکر کا نظام نہیں تھا ، خدمت گار غلام ضرور ہوتے تھے جن کے ساتھ غلاموں جیسا برتاؤ بھی نہیں کیا جاتا تھا ، نوکر چاکر کی اصطلاح اترپردیش میں مناسب نہیں ہے کیونکہ یہاں تصور دوسرا ہے جس سے ایک ظالمانہ نظام ذہن میں آتا ہے ، اب بعض شیعہ بستیوں میں ایک مخصوص گروہ پنجابی زبان میں نوحے پڑھنے لگا ہے اور اُسی انداز میں برہنہ ہوکر سینہ زنی کر رہا ہے جب کہ ان نوحوں کا مطلب خود نوحہ خوان یا نوحہ سننے والے بھی نہیں سمجھتے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شہدائے کربلا پر گریہ سے محروم ہو گئے کیونکہ جب نوحہ سمجھیں گے نہیں تو گریہ کس طرح کریں گے ؟
اسی طرح جاہل پنجابیوں کا پہناوا بھی اپنی پہچان بنالیا ہے جس سے ایسی بدنما ہیئت بن جاتی ہے جو اسلام یا شیعہ کے شایان شان نہیں ہے ہاتھوں کی تمام انگلیوں میں انگوٹھیاں ، کلائی میں موٹے موٹے کڑے اور کلاوے ، جوؤں کی بہترین پناہ گاہ لمبے الجھے ہوئے بال،میلے کچیلے کپڑے ، گلے میں انواع و اقسام کی مالائیں ، اور شکل ایسی کہ جیسے کبھی انسانی معاشرہ دیکھا ہی نہ ہو ، اور پھر کہا یہ جاتا ہے کہ یہ لوگ مولائی ہیں ؟ بہت پہنچے ہوئے ہیں ؟ ہرگز نہیں !یہ تو ہر لحاظ سے مولا کو بدنام کررہے ہیں اور مولا کی توہین کا باعث ہیں ، ایسے لوگ نہ صرف شیعہ سماج بلکہ پوری انسانیت کے لئے عظیم خطرہ ہیں ، دنیا کے تمام مذاہب کسی نہ کسی لحاظ سے دنیا میں فعالیت کو بہت اہمیت دیتے ہیں اوراسلام نے دنیاوی فعالیت کو سر فہرست قرار دیا ہے ، لیکن ملنگیت انسان کو جامد بناتی ہے اور ہر قسم کے تحرک سے باز رکھتی ہے .
اس کے علاوہ قلندروں کی تعریفیں اور ’’دھمال ‘‘جیسی اصطلاحوں کے ہندوستانی شیعوں میں وارد ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کیونکہ پاکستان میں جاہل ذاکروں نے مجلسوں میں "دھمال" اور قلندروں کی تعریفیں شروع کردی ہیں ، اگر یہ وائرس انڈیا سے پاکستان جانے والے اَن پڑھ ذاکروں کو لگ گیا تو پھر انڈیا میں اس کا پھیلنا یقینی ہے ، جبکہ ان دونوں ہی چیزوں کا مذہب اہل البیت (ع) سے کوئی تعلق نہیں ہے ، دھمال سنسکرت کا لفظ ہے ’’دھرم +آل ‘‘سے مل کر بنا ہے اور اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے ، اردو لغت میں سب سے پہلے 1809عیسوی میں استعمال ہوا جس کے معنی اچھل کود ، دھما چوکڑی اور شور و غل کرنے کے ہیں ، عرف عام میں مزاروں پر کئے جانے والے بے ہنگم رقص کو بھی دھمال کہتے ہیں ، اسی طرح قلندر ترکی زبان کا لفظ ہے اور اگرنام نہاد شیعہ ذاکر پاکستان میں اپنے گھر پر قلندری دھمال کرائے تو سمجھ لیجئے اس کا شیعیت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے .
اور خود ملنگ کی اصطلاح ہی ایک صحت مند معاشرے کے لئے کونسی جائز ہے ، کیونکہ ملنگ اُسے کہتے ہیں جو اپنے ہوش و حواس میں نہ ہو ، اور یہ لوگ کہتے بھی یہی ہیں کہ ہم علی (ع) کے دیوانے ہیں ، امام علی (ع) کو دیوانوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ نہایت عقلمند انسان امام علی (ع) کے کام آسکتا ہے ، دیوانہ تو دیوانہ ہوتا ہے وہ کبھی بھی نقصان پہنچا سکتا ہے اور اکثر نقصان ہی پہنچاتا ہے ، دیوانے سے کبھی فائدہ نہیں پہنچتا ،ان اصطلاح کے شیعوں میں رائج ہونے سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ امام علی (ع) کے اصحاب کا مرتبہ کمتر ہوگیا اور یہ صدائیں آنے لگی ہیں کہ ابوذر، سلمان فارسی، عمار یاسر وغیرہ بھی تو ملنگ تھے ﴿نعوذ باللہ﴾ ابھی نوگانواں سادات میں اربعین حسینی کی مجلس کو خطاب کرتے ہوئے ایک خطیب نے امام علی (ع) کے اصحاب کو علی الاعلان ملنگ کہا !، یہ لوگ ہرگز ملنگ نہیں تھے بلکہ امام علی (ع) کی انہیں جتنی بھی محبت تھی وہ معرفت کے ساتھ تھی اور ملنگ صرف محبت کا دعویٰ کرتے ہیں جو بغیر معرفت کے ہوتا ہے یعنی صرف نکمے ، ناکارہ اور نکھٹو لوگوں کا زبانی دعوی ہوتا ہے جو عمل سے کوسوں دور بھاگتے ہیں ، جبکہ بغیر عمل کے اہل البیت (ع) کی محبت کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی ، اس پنجابی اصطلاح﴿ملنگ﴾ کا ہندوستان میں رائج ہونے کا ایک ضرر یہ بھی ہوگا کہ لوگ عمل خیر سے کوسوں دور ہوجائیں گے جس کی وجہ سے ہمارا شیعہ سماج بغیر موت کے اپنے آپ مرجائے گا .
اس اصطلاح کے رائج ہونے کا دوسرا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ شیعہ سماج نظام رہبری سے دور ہوجائے گا ، چاہے رہبری معصوم کی ہو یا غیر معصوم کی، ملنگ اس سے دور بھاگتا ہے ، کیونکہ اگر ملنگ ایسے سماج کا جز بن جائے جو نظام رہبری کو دل سے قبول کرتا ہو تو پھر انہیں رہبر کی اطاعت کرنا پڑے گی اور یہ چیز ملنگیت سے تضاد رکھتی ہے ، اس کے علاوہ خود عوام بالخصوص غیر مسلمین میں ملنگوں کے ذریعہ اسلام کے تئیں منفی پیغام جاتا ہے اور اسلام کو نقصان پہنچتا ہے ، مثلا ملنگ برسوں نہیں نہاتے اور اسلام صفائی ستھرائی پر بہت زیادہ زور دیتا ہے ، ہندوستان کے سماج میں غیر مسلمین کی نگاہیں کتابوں میں لکھی ہوئی ان حدیثوں تک نہیں پہنچیں گی جن میں اسلام نے صفائی ستھرائی کی بہت زیادہ تاکید کی ہے لیکن میلے کچیلے ملنگوں کو سب آسانی سے دیکھ کر اسلام کا حلیہ سمجھ لیں گے جس سے سیدھے طور پر اسلام کا ہی نقصان ہوگا .
اب اچھے بھلے لوگ ﴿جو بظاہر ملنگ نہیں ہیں ﴾ بھی اس اصطلاح سے متاثر ہوکر کہنے لگے ہیں کہ ملنگ ہونا کوئی بری بات نہیں ہے ، مولا کے چاہنے والے کو ملنگ کہتے ہیں ، جب معصومین (ع) نے مولا کے چاہنے والے اور پیروکار کے لئے ’’شیعہ ‘‘ لفظ استعمال کیا ہے تو پھر کونسی ترجیحی وجہ جاہل پنجابیوں کی اصطلاح ﴿ملنگ﴾ میں موجود ہے جسے ہمارے شیعہ سماج میں معصوم کے عطا کردہ لفظ ’’شیعہ‘‘ کے بجائے رائج کیا جا رہا ہے ؟