آسان شریعت میں طلاق کی مشکل !
تحریر: پیغمبر نوگانوی
شریعت محمدی (ص) کو شریعت سہلہ یعنی ’’آسان شریعت‘‘ کہا گیا ہے ، شریعت کے دائرے میں کوئی بھی عمل مشکل اور پیچیدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی شریعت کے کسی حکم سے سماج میں بے چینی پیدا ہوتی ہے ، اسلامی حکم ہوتے ہی اس لئے ہیں کہ سماج سے ہر قسم کی آفت اور بے چینی کو دور کیا جا سکے ، یہ تو ہم ہوتے ہیں جو گاہے گاہے اسلامی حکم سے مختلف وجوہات کی بناء پر غفلت برت لیتے ہیں اور پریشان ہونے لگتے ہیں ، آج کل جو مسئلہ ہمارے ہندوستانی مسلم سماج کے لئے مشکل بنا ہوا ہے وہ ’’مسئلہ طلاق‘‘ ہے ، ہر خاص و عام اس بحث میں حصہ لے رہاہے اور ڈسٹرک کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک اس مسئلہ کے چرچے ہیں ، اس کی مشکل میں مزید اضافہ اس وقت ہوجاتا ہے جب مسلمان اس مسئلہ کو حل کرانے کے لئے علماء کے بجائے کورٹ کا رُخ کرتے ہیں ، جب کہ یہ مسئلہ اگر علماء کے پاس ہی حل ہوجائے تو کورٹ کا قیمتی وقت بھی بچے گا اور مسلمانوں کی فضیحت بھی نہیں ہوگی ، اور جب یہ مسئلہ کورٹ میں پہنچ جاتا ہے تو پھر اسلام اور مسلمانوں سے تعلق ہونے کی وجہ سے خوب نمک مرچ لگا کر میڈیا میں بیان کیا جاتا ہے ، اور TVچینلوں کے اینکر کسی کو بھی ’’اسلام شناس‘‘ کے عنوان سے پکڑ لاتے ہیں اور فقہی مسائل کی خوب بخئے ادھیڑتے ہیں ، بہر حال یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ قرآن مجید کی واضح ہدایات ہونے کے باوجود بھی یہ مسئلہ مشکل بنا ہوا ہے ، اسلام نے دیگر مسائل کی طرح طلاق کو بھی بے حد آسان اور بہت واضح بنایا ہے جس میں کسی قسم کی کوئی پیچیدگی یا مشکل نہیں ہے لیکن اس سے کوئی غلط فائدہ نہ اٹھا سکے یا انتقام کے طور پر استعمال نہ کر سکے اس میں کچھ شرائط کا اضافہ بھی کردیا ہے جس سے طلاق نہ تو اتنی آسان رہ گئی ہے کہ جو چاہے ، جب چاہے ، جہاں چاہے بیٹھے بیٹھے الفت و محبت کے اس رشتہ پر 3بار لفظ ’’طلاق ‘‘کہہ کر قینچی چلادے اور خاتون بے چاری آہ بھی نہ کر سکے اور نہ ہی اتنا مشکل ہے کہ کسی دبنگ خاتون کے ظلم وستم سہنے کے بعد بھی مرد بے چارہ ، بے چارہ ہی رہ جائے ، ہندوستانی سماج اسی بے قید وبند اور بغیر شرائط والی طلاق کی مشکل سے دو چار ہے ، کیونکہ مرد چاہے 2عادل گواہوں کی موجودگی کے بغیر فون پر 3بار طلاق بول دے ، یا SMSمیں 3بار طلاق لکھ دے یا سوشل میڈیا کے ذریعہ طلاق دے ڈالے ، بہر حال خاتون پر ساری زندگی کے لئے طلاق کا داغ لگ جائے گا جو ہمارے سماج میں معیوب ہے ، اسلام نے طلاق کا آپشن بہت مجبوری کی حالت میں رکھا ہے کہ جب شوہر و زوجہ دونوں کی زندگی تلخ ہوجائے اور بغیر طلاق سکون حاصل نہ ہو ، اس کے باوجود بھی اس حلال کام میں کراہت شدیدہ ہے اور روایات میں اسے بہت زیادہ نفرت والا کام کہا گیا ہے ، صادقِ آل محمد (ص) حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ : ’’خداکے نزدیک حلال کاموں میں طلاق سے زیادہ نفرت اور غضب والی کوئی چیز نہیں ہے ، قرآن مجید تمام انسانوں کے لئے منشور حیات ہے اور تمام مشکلات کا حل اسی قرآن مجید میں موجود ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ قرآن مجید نے طلاق کے مسائل بیان نہ کئے ہوں ، اگر ہم غور و فکر کے ساتھ قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو قرآن مجید نے طلاق کے تمام احکام اور شرائط بہت واضح طورپر بیان فرمادیئے ہیں جس کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں ہے ،قرآن مجید میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 229میں ارشاد ہوتا ہے : ’’طلاق ﴿رجعی ،جس میں رجوع ہوسکتی ہے ﴾ 2ہی مرتبہ ہے اس کے بعد یا تو شریعت کے موافق روک ہی لینا چاہئے یا حُسنِ سلوک سے ﴿تیسری دفعہ﴾ بالکل رخصت ﴿کردو﴾ اور تم کو یہ جائز نہیں کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے پھر کچھ واپس لو .‘‘ مذکورہ آیت میں جس طلاق کا ذکر کیا گیا ہے اُسے فقہ کی اصطلاح میں طلاق رجعی کہتے ہیں ، طلاق رجعی ، رجعت سے ہے ، جس کے معنیٰ پلٹنے کے ہیں اور اس طلاق میں مرد عدہ کے دوران بیوی سے رجوع کی صورت میں سابق عقد نکاح پر پلٹ جاتا ہے،یعنی جب بھی شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بعد اپنے کئے پر شرمندہ ہو تو عدہ کے اندر اندر خود یا اپنے کسی رشتہ دار کے ذریعہ اپنی بیوی کو اپنے پاس بلا سکتا ہے ، ایسی صور ت میں حلالہ کی ضرورت نہیں ہے ، اس طر ح مرد اپنی بیوی کو 2طلاقیں دے سکتا ہے ، لیکن جب وہ تیسری بار طلاق دے گا تو اسے ’’طلاق بائن ‘‘ کہا جائے گا اور قرآن مجید نے سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 230میں اس کا حکم اس طرح بیان فرمایا ہے : ’’ اگر تیسری بار بھی عورت کو طلاق ﴿بائن﴾ دے تو اس کے بعد جب تک دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے اس کے لئے حلال نہیں ، ہاں اگر دوسرا شوہر ﴿نکاح کے بعد﴾ اس کو طلاق دیدے تب البتہ ان شوہر و زوجہ پر باہم میل کر لینے میں کچھ گناہ نہیں ہے ‘‘ فقہ کی اصطلاح میں اسے حلالہ کہتے ہیں ، لیکن یہ باہم میل، بغیر صیغۂ عقد جاری کئے نہیں ہوگا ، لہٰذا اس صورت میں عقد نکاح کے ذریعہ ہی دونوں ایک دوسرے پرحلال ہوں گے ، اسی طرح قرآن مجید نے طلاق دینے والے کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو دوعادل گواہوں کے سامنے طلاق دے، اس میں بہت بڑی حکمت پوشیدہ ہے، اسلام نہیں چاہتا کہ اتنی آسانی سے کسی کا گھر اجڑ جائے ،لہٰذا قرآن کی اس شرط پر عمل کرنے کی صورت میں اگر شوہر 2عادل گواہوں کی موجودگی میں طلاق دینے کا پابند ہوگا تو غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق ٹل سکتی ہے ، جتنی دیر میں 2عادل گواہوں کو تلاش کرے گا ہو سکتا ہے غصہ رفع ہوجائے اور پھر بھی نہ ہوا تو وہ 2عادل گواہ اس کو سمجھائیں بجھائیں گے اس طرح ایک صلح کی کوشش باقی رہتی ہے ، اگر پھر بھی صلح صفائی نہ ہو تو ان 2عادل گواہوں کے سامنے طلاق دے دی جائے ، قرآن مجید کے سورۂ طلاق کی آیت نمبر 2میں ارشاد ہوتا ہے : ’’﴿اور طلاق کے وقت﴾ اپنے لوگوں میں سے 2عادلوں کو گواہ قرار دے لو .‘‘جو لوگ ظواہر قرآن کو حجت مانتے ہیں ان کے لئے بھی مذکورہ دونوں آیتوں سے یہ بات واضح ہے کہ ایک ہی نشست میں 3بار طلاق طلاق کہہ دینے 3طلاقیں نہیں ہو جاتی ہیں اور طلاق دیتے وقت ضروری ہے کہ 2عادل گواہوں کی موجودگی میں طلاق دی جائے اور جو لوگ ظواہر قرآن کو حجت نہیں مانتے ان کے یہاں بھی اس آیت کی ایسی تاویل اور تفسیر موجود ہیں جس سے 3بار طلاق طلاق کہہ دینے سے 3طلاقیں اور بغیر 2عادل گواہوں کے طلاق واقع نہیں ہوتی ، سورۂ بقرہ کی مذکورہ آیت ﴿نمبر 229﴾کے مفہوم و منطوق سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ تیسری بار طلاق دینے سے ہی حلالہ کی ضرورت ہوتی ہے ،طلاق ، زوجہ کو دی جاتی ہے ،جس شخص نے ایک بار اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو پھر اس بات کے کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتے کہ وہ دوسری بار اور تیسری بار بھی طلاق دیدے ، اور اس طرح ایک ہی نشست میں 3طلاقیں ہوجائیں ! اس لئے کہ دوسری اور تیسری بار طلاق کا اُس وقت تک تصور نہیں ہو سکتا جب تک وہ اُس کی بیوی نہ ہو جائے یعنی شوہر اُس سے رجوع نہ کر لے، طلاق بیوی ہی کو تو دے گا ! اور وہ پہلی ہی طلاق میں اُس کی زوجیت سے خارج ہوگئی تو پھر دوسری اور تیسری طلاق کا تصورایک نشست میں نہیں کیا جا سکتا !اگر طلاق دینے کے بعد کوئی شخص اپنے کئے پر شرمندہ ہو اور اپنی بیوی کو بلانا چاہے تو عدہ کے دوران بلا سکتا ہے حلالہ کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر ایک نشست میں تین طلاقیں مان لیں تو مشکل یہ پیدا ہوتی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو حلالہ کرائے ، یعنی کسی دوسرے مرد سے اُس کا عقد نکاح کرائے پھر وہ اُسے طلاق دے ،دوبارہ یہ شوہر اُس سے عقد کرے ، اس صورت میں بہت سے مردوں کی غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ وہ اپنی بیوی کا، اپنی موجودگی میں کسی دوسرے مرد سے عقد نکاح کرادیں اور دوسرے یہ کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو شخص حلالہ کے لئے عقد کرتا ہے وہ اُس عورت کو طلاق نہیں دیتا جس سے سماج میں اور زیادہ مشکل پیدا ہو جاتی ہے ، ایران کے بادشاہ ’’خدا بندہ ‘‘ کے ساتھ ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا اُس نے اپنی بیوی کو غصہ میں ایک نشست میں 3طلاقیں دے دیں، اب جب غصہ ٹھنڈاہوا تو بیوی یاد آئی ، علماء سے رجوع کیا تو انہوں نے اس کا علاج حلالہ کی صورت میں بتایا ، بادشاہ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ اُس کی بیوی کا عقد اُس کے سامنے کسی اور مرد سے کردیا جائے لہٰذا اُس نے وزیر سے مشورہ کیا کہ کوئی اور صورت نہیں ہے ؟وزیر نے جواب دیا کہ عراق کے حلہ شہر میں شیعہ مسلک کے عالم ’’علامہ حلی‘‘ رہتے ہیں اُن سے بھی مسئلہ دریافت کرلیا جائے ، علامہ حلی کو بلایا گیا ، علامہ حلی نے قرآن و حدیث سے بادشاہ اور تمام علماء کے سامنے ثابت کردیا کہ آپ کی طلاق واقع ہی نہیں ہوئی ، کیونکہ غصہ کی حالت میں اور بغیر 2عادل گواہوں کی موجودگی میں طلاق واقع نہیں ہوتی ہے ، اگر بالفرض آپ قرآنی شرائط کے ساتھ بھی طلاق دیتے تو وہ ایک ہی ہوتی اور آپ اپنی بیوی کو عدہ کے درمیان اپنے پاس بلا سکتے تھے اور حلالہ کی ضرورت نہیں تھی ، بادشاہ کی سمجھ میں مسئلہ آگیا بادشاہ بہت خوش ہوا. نسائی نے اپنی کتاب ’’سنن نسائی میں تحریر کیا ہے کہ : رسول(ص) اسلام کو خبر دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک نشست میں تین طلاق دے دی ہیں ، حضرت رسول (ص) اکرم غصہ کی حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ: ’’خدا کی کتاب سے کھلواڑ ہوگا ! ابھی تو میں تمہارے درمیان موجود ہوں ‘‘پیغمبر (ص) کا غضب اتنا شدید تھا کہ پاس بیٹھے ایک شخص نے پیغمبر (ص) سے اُس کے قتل کی اجازت مانگ لی .﴿سنن نسائی ،جلد2، کتاب الطلاق، باب 1705، صفحہ 468، حدیث 3433،ترجمہ علامہ وحید الزماں ، ناشرا سلامی اکادمی، اردو بازار ، لاہور ، دسمبر 1985﴾، روایات کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ خود حضور اکرم(ص) کے زمانے میں اور حضرت ابو بکرا ور عمر کے زمانے میں ایک نشست میں تین طلاق کا رواج نہیں تھا ، حضرت عمر نے اپنی خلافت کے دو سال گزرنے کے بعد ایک نشست میں تین طلاقوں کی اجازت دی ، جس کی وجہ اُس زمانہ کے مسلم سماج کی مصلحت بتائی جاتی ہے ، بالفرض محال اگر اسے صحیح مان لیا جائے تو آج کے مسلم سماج کی ایک نشست میں تین طلاق کی کوئی مصلحت نہیں ہے بلکہ معاملہ برعکس ہو چکا ہے ، لہٰذا ایک نشست میں تین طلاق کے حامی علماء کو اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے .