ماں باپ کے نہیں بلکہ بیوی کے قدموں کے نیچے جنّت ہے

*ماں باپ کے نہیں بلکہ بیوی کے قدموں کے نیچے جنّت ہے
(شادی شدہ جوان ضرور پڑھیں)

*تحریر الاحقر سید ایمان احمد* ٢/٣/٢٠١٢

*راہ ناب*
ایک بیٹا اپنے بزرگ والد کو یتیم خانے میں چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا اسکی بیوی نے اسے فون کیا کہ والد تہوار وغیرہ کی چھٹی میں بھی وہیں رہیں گھر نہ چلے آئیں اور ویسے بھی اب ہمارے بیٹے کا ٹرانسفر یہیں ہو گیا ہے اب وہ ہمارے ہی ساتھ رہیگا اور گھر میں جگہ بھی نہیں ہے شوہر واپس گیا تو پتہ چلا کہ اسکے والد یتیم خانے کے سربراہ کے ساتھ
ایسے گھل مل کر بات کررہے ہیں جیسے بڑے پرانے تعلقات اور قریب سے جانتے ہوں تبھی اسکے باپ اپنے کمرے کا بندو بست کرنے کے لئے
وہاں سے چلے گئے اپنی کھوج بین کرنے کے لئے بیٹے نے یتیم خانے کے سربراہ سے سوال کیا آپ میرے والد کو کب سے جانتے ہیں..؟؟ انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا گزشتہ تیس ٣٠ سال سے جب وہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کو گود لینے آئے تھے..!!

جس باپ کو یتیم خانے چھوڑنے یہ صاحب گئے تھے انہیں کے باپ نے یتیم خانے سے اس شخص کو لیکے نئی زندگی دی اپنا نام دیا اپنا گھر دیا لیکن اس بچے نے کیا کیا..؟؟ یہ آپ جانتے ہیں
ہماری حقیقت بھی کچھ اسی طرح ہے ایک زمانہ ایسا بھی آتا ہے جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں اور ماں باپ چھوٹے..
کل بچے ماں باپ کی انگلی پکڑنا چاہتے تھے ماں باپ گود میں لےلیتے تھے اور آج بڑھاپے میں ماں باپ بچّوں کی انگلی پکڑنا چاہتے ہیں تو بچے یہ کہکے جھٹک دیتے ہیں کہ میرا دوست باہر کہڑا ہے انتظار کررہا ہے یا پھر میری بیوی انتظار کررہی ہے مجھے جانا ہے 
عجیب ہے نا میرے بھائیوں..!! آج بابا کو سہارا چاہیے تھا آپکا
اور آج آپ انکا سہارا بننا نہیں چاہتے ان پر فقط غصہ کرنا، انکی مختصر سی نادانیوں پر آواز بلند کرنا، انکو غصے کی نگاہ سے دیکھنا، اپنی بلند آواز سےسہما ڈرا دینا اور یوں اپنے گھر کے دروازے انکے لئے بند کردینا
کیا آپ جانتے ہیں وہ والدین جو خدا کی بارگاہ میں آپکے مستقبل کے لئے دن رات رورو کے آپکی کامیابی کی دعا کرتے آپکی فکر میں ڈوبے خدا سے دعا کرتے تھے پر افسوس وہ والدین آج بھی روتے ہوں گے آپ واقف نہیں ہو انکا کلیجہ پہٹ جاتا ہے آپکے ان رویوں کی وجہ سے

آج اپ اپنے والدین کی نادانیوں پر چلاتے ہو ذرا تصور کرو جب تم رات کو روتے چلاتے اور رات دن بستر پر نجاست کرتے کبھی انکی عبادتوں کے وقت انکو نجس کرتے تھوڑا اور بڑے ہوئے تو انکی نافرمانیاں کرتے مگر پھر بھی تمہارے والدین تمہاری غلطیوں کو معاف کرتے رہے کبھی نظر انداز کرتے رہے کل کو آپ جب ٹھیک سے بولنا بھی نہیں جانتے تھے تو ماں سے ایک سوال ١٠٠ بار کرتے تھے وہ خوشی خوشی ١٠٠ بار جواب دیا کرتی تھی لیکن آج جب والدین ٹھیک سے سن نہیں پاتے کوئی 
سوال دوسری بار پوچھ لیں تو آپ ان پر غصہ کرتے کہ سنائی نہیں دیتا تو علاج کرواؤ اور آگے چلدیتے کل ماں آپکے لئے اپنے شوہر سے لڑلیتی تو کبھی والد آپکے لئے اپنی بیوی سے اور آپکو دونوں اپنے کلیجے سے لگائے رکھتے پر آج آپ اپنی بیوی کے لئے اپنے ماں باپ سے لڑتے نظر آتے ہیں اور اپنے کلیجے سے اسے لگائے رکھتے ہیں جو آپکی پیدائش کا سبب نہیں بنی

آپ تو بے زبان تھے آپکو بولنا والدین نے سکھایا ہاتھ پکڑ کر چلانا والدین نے سکھایا لیکن آج انہیں ہاتھوں کو جھٹکتے دکھائی دیتے ہو کہ جن ہاتھوں نے آپکی کامیابی کی لکیریں کہینچی تھی میرے بھائی ماں کا ہاتھ چہوڑکے بیوی کا ہاتھ پکڑلینا یہ کونسا دین ہے..؟؟ اس ہاتھ کو چھوڑ دیا جو جنّت تک لے جانے والا تھا
آپکو تو اسنے اپنے شکم میں رکھا مشقتیں اٹھائی اپنا خون جگر پلایا 
خدا کا خوف کریں یہ نہ بھولیں جس طرح ننگے پیر اور ننگے بدن پیدا ہوئے تھے ویسے ہی زمین میں (پیوند خاک) بھی ہونا ہے

افسوس..!! جب بچے جوان ہو جاتے ہیں اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں دو پیسے جب کمانے لگ جاتے ہیں تو وہ بھول جاتے ہیں کہ جس جسم پر اپنے وہ ناز کرتے ہیں اسکا سبب صرف انکے والدین بنتے ہیں 
افسوس بھرا مقام ہے ان بچوں کے لئے جو اپنے ضعیف والدین کو بوجھ سمجھتے ہیں کبھی یتیم خانے تو کبھی دوسرے گھر میں منتقل کردیتے ہیں اور خود سے جدا کردیتے ہیں بیوی کے آنچل میں رہنے لگ جاتے ہیں
انکی ساری دی ہوئی تعلیم کو فراموش کردیتے ہیں اور اپنا گھر اس پیلے لڈو کے ساتھ بسانے چل دیتے ہیں جسے انسان کھائے تو بھی پچہتاۓ اور نہ کھائے تو بھی پچہتاۓ 
اور جب نہیں کھاتا تو کہتا ہے ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے اور جب لڈو کھا لیتا ہے تو کہتا ہے ماں باپ 
کے نہیں بلکہ بیوی کے قدموں کے نیچے جنّت ہے ......
(نوٹ: یہ حالات ہر گھر کے نہیں بلکہ کچھ گھروں کے ہیں) 
*جاری ہے...* **

*تحریر الاحقر سید ایمان احمد. . . .*

جوائن وہاٹس اپ گروپ 
١-عاشقان مہدی (ع) 
٢-نماز شب و زیارت عاشورہ
+919026666650

like Facebook page:
https://www.facebook.com/RaheNaab
Blog:
rah-e-naab.blogspot.com