Nikal gaye

👈 مزاحیہ اشعار 👉

کھا کر ولیمہ ہاتھ ملا کر نکل گئے
خالی لفافے دوست تھما کر نکل گئے

میرا بھی ایک کام منسٹر سے تھا مگر
جلسے کے بعد ہاتھ ہلا کر نکل گئے

جانے وہ کونسی ھے دوا جس کے زور پر
اکثر وزیر ملک کو کھا کر نکل گئے

کم ظرف ایک شعر بھی میرا سنے بغیر
دیوان  اپنا  سارا سنا کر نکل  گئے

دیگیں پکیں رقیب کی شادی میں اور ھم
ان میں جمال گھوٹا ملاکر نکل گئے

رفتار آج کل کے جوانوں کی تیز  ھے
پولیس کو پچاس روپیہ تھما کر نکل گئے

چپل خدا کے گھر سے کوئی چور لے گیا
ھم بھی کسی کے بوٹ دباکر نکل گئے