امام علی (ع) کی تحریر

امام علی (ع) کو جب اطلاع ملی کہ بصرہ میں آپ کے گورنر عثمان بن حُنیف نے ایک بڑی دعوت میں شرکت کی ہے ، توآپ (ع) نے تحریر فرمایا:
ابن حُنیف ! مجھے خبر ملی ہے کہ بصرہ کے بعض جوانوں نے تم کو ایک دعوت میں مدعو کیا تھا ، جس میں طرح طرح کے خوشگوار کھانے تھے اور تمہاری طرف بڑے بڑے پیالے (ڈونگے) بڑھائے جا رہے تھے اور تم تیزی سے وہاں پہنچ گئے تھے ، مجھے تو یہ گمان بھی نہیں تھا کہ تم ایسی قوم کی دعوت میں شرکت کروگے ، جس کے غریبوں پر ظلم ہو رہاہو اور جس کے دولت مند مدعو کئے جاتے ہوں ، دیکھو جو لقمے چباتے ہو اسے دیکھ لیا کرو اور اگر اس کی حقیقت مشتبہ و مشکوک ہو تو اسے پھینک دیا کرو اور جس کے بارے میں یقین ہو کہ پاکیزہ ہے اسی کو استعمال کیا کرو ۔
سبق : 
1-جب بھی کسی دعوت میں جانے کا اتفاق ہو تو پہلے یہ یقین حاصل کرلینا چاہئے کہ مدعو کرنے والا شخص حرام خور تو نہیں ہے ، کیونکہ اگر وہ خود حرام خور ہوگا تو مہمان کو بھی حرام کھلائے گا ۔
2-اُس دعوت میں نہیں جانا چاہئے جس میں غریبوں کو مدعو نہ کیا گیا ہو۔
3-اُن لوگوں کے یہاں دعوت میں نہ جانا چاہئے جو غریبوں پر ظلم کرتے ہیں ۔
4-مولا (ع) کے نام پر کی جانے والی حاضری ، جناب سیدہ (ع) کا دسترخوان، امام حسن (ع) کادسترخوان اوردیگر نذروں میں رشوت خور، سود خور، خمس نہ نکالنے والے ، طوائفوں کی دلالی کھانے والوں کے یہاں نہ کھانا  چاہئے ، کیونکہ ایسے پیسے کا کھانا  تبرک نہیں بن سکتا ۔
5-جب مولائے متقیان (ع) نے کھانے کے بارے میں اتنی احتیاط کی تاکید فرمائی ہے اور مشکوک دسترخوان پر بیٹھنے والے سے آپ (ع) ناراض ھو گئے تو دلالوں، رشوت خوروں، سود خوروں کے پیسے سے فری زیارتوں کے لئے جانے اور نجف و کربلا میں انٹرنیشنل محفلیں کرنے سے مولا(ع) ناراض نہیں ہوں گے ۔ ؟
6-جس دسترخوان پر مراجع کرام کی توہین ہو رہی ہو اس پر نہ کھانا چاہئے ۔