*** کیا اہلبیت کے عشق میں ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں ؟ کیا عاشق پر کوئی اصول لاگو نہیں ہوتا ؟ (پوسٹ بمناسبت محرم***
ایک چیز جو بہت ذیادہ سننے میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ اہلبیتؑ کے نام پر عجیب و غریب حرکات انجام دیتے ہیں اور جب انہیں سمجھایا جائے تو کہتے ہیں کہ ہم تو عشق میں کر رہے ہیں، عشق کا مذہب سے کیا تعلق، عاشق کی اپنی دنیا ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ابھی محرم میں بھی ہم سب یہ باتیں سنیں گے۔ آئیں آج ہم اپنی اس مختصر سی پوسٹ میں دیکھتے ہیں کہ یہ بات کس حد تک درست ہے۔
قارئین سب سے پہلے تو یہ عرض ہے کہ ہمارا دین و مکتب ایک علمی و عقلی مکتب ہے۔ ہمارے آئمہؑ باب العلم و باب الحکمہ ہیں۔ ہمارے دین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز شتر بے مہار نہیں ہے اور ہر چیز کو ایک دائرے میں رکھا گیا ہے۔ ہمارے مکتب میں عشق کو بھی ایک دائرے میں قرار دیا گیا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کا جو دل چاہے وہ کرے اور کرنے کے بعد کہہ دے کہ میں نے عشق میں کیا ہے۔
ہمیں معصومین (ع) کی سیرت میں اس قسم کے واقعات ملتے ہیں جب ان کے چاہنے والوں نے ان کی محبت، احترام یا عشق میں کم علمی کے باعث کچھ اوٹ پٹانگ یا ناجائز کام کرنا چاہا تو انہیں فورا روکا گیا۔ سب سے پہلی مثال رسول اللہ (ص) کی حیات میں ملتی ہے کہ جس وقت کچھ اصحاب نے آُپ کو محبت کی بنیاد پر سجدہ کرنا چاہا تو رسول اللہ نے انہیں اس بات سے منع فرمایا (وسائل الشیعہ، شیخ حرعاملی، جلد 4، باب 27، روایت نمبر 1)
اسی طرح ہی ہمیں امام علی (ع) کے متعلق ملتا ہے کہ جس وقت امام کو پتہ چلا کہ ایک شخص نے دنیا کو اللہ کی محبت میں ترک کر دیا ہے اور ایک عباء پہن لی ہے تو امام نے شدید سخت الفاظ میں اس کی سرزنش کی اور اسے سمجھایا کہ تم غلط کر رہے ہو۔ (نہج البلاغہ، شریف رضی، خطبہ نمبر 210) یہ چیز رسول اللہ (ص) سے بھی مروی ہے کہ جس وقت بعض اصحاب نے اللہ سے عشق کی وجہ سے ہر وقت نمازیں پڑھنی شروع کر دیں تو رسول اللہ نے انہیں روکا۔
پھر جب امام علی (ع) کے لشکر نے امام سے محبت کی وجہ سے مخالف لشکر کو سب و شتم کرنا شروع کیا تو امام علی (ع) نے انہیں روکا اور فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم گالیاں دینے والے بن جاو۔ (نہج البلاغہ، شریف رضی، خطبہ نمبر 206)
جس وقت امام علی (ع) شام کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں انبار شہر سے آپ کا گزر ہوا۔ جس وقت آُپ کا گزر ان کے پاس سے ہوا تو وہ لوگ سواریوں سے اتر آئے اور آپ کے آگے دوڑنے لگے تو آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا طریقہ اختیار کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی کہ یہ ہمارا ایک ادب ہے جس سے ہم شخصیتوں کا احترام کرتے ہیں۔ تو امام نے فرمایا کہ خدا گواہ ہے اس سے حکام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا ہے اور تم اپنے نفس کو دنیا میں زحمت میں ڈالتے ہو اور آخرت میں بدبختی کا شکار ہو جاو گے۔ ۔ ۔ ۔ (نہج البلاغہ، شریف رضی، حکمت نمبر 37)
قارئین اب ہم ان تمام واقعات پر تجزیہ کرتے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ اصحاب نے رسول اللہ سے عشق کی وجہ سے انہیں سجدہ کرنا چاہا لیکن رسول اللہ نے انہیں روک دیا، پھر اسی طرح ہی جب کچھ لوگوں نے اللہ سے محبت کی بنیاد پر دنیا کو بالکل ترک کر دیا تب بھی انہیں روکا گیا اور سمجھایا گیا۔ اس کے بعد جب لوگوں نے امام سے محبت و عشق کی بنیاد پر امام کے دشمن کو سب و شتم کرنا شروع کیا تب بھی امام نے انہیں روکا کیونکہ امامؑ نہیں چاہتے تھے کہ کہیں ان کے ماننے والے سب و شتم پر بدنام ہو جائیں، پھر جب لوگوں نے امام علی (ع) کے احترام یا محبت میں دوڑنا شروع کیا (دوسرے لفظوں میں دھمال ٹائپ ڈالی) تب بھی امام نے انہیں روکا۔
ان سب واقعات کو آپ دیکھ لیں کہ یہ سب واقعات ہمیں کچھ سمجھانا چاہ رہے ہیں۔ یہ سب واقعات ہمیں یہی بتا رہے ہیں کہ عشق و محبت کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور عشق و محبت کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں کہ جس کا جو دل چاہے وہ کرتا پھرے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان ہستیوں سے اصل عشق تو یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے، ان کے حکم کو مانا جائے اور ان کی سیرت و افکار کو زندہ رکھا جائے۔ آئمہ (ع) کے اصحاب مالک اشتر، محمد بن ابی بکر، سلمان فارسی، حبیب ابن مظاہر وغیرہا کو بھی ان ہستیوں سے عشق تھا لیکن آپ دیکھ لیں کہ ان بزرگ اصحاب نے اپنے عشق کا مظاہرہ صرف اور صرف اپنے امام کی پیروی کر کے پیش کیا۔ یہ لوگ سچے عاشق تھے۔ بھللا یہ کوئی طریقہ ہے کہ کچھ لوگ آئمہ کے جشن کے نام پر اکھٹے ہوں اور امام بارگاہ میں ناچ گانا کریں اور جب انہیں روکا جائے یا پوچھا جائے تو وہ کہہ دیں کہ ہم عشق میں کر رہے ہیں اور عشق میں حوالہ نہیں چلتا (ویڈیو ہمارے پاس موجود ہے ) یہ دین ہے یا پھر کوئی مذاق ہے کہ جس میں کوئی اصول ہی نہیں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے اللہ نے قرآن میں بھی یہی حکم دیا ہے:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
"اے پیغمبر! کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ اللہ سے محبّت کرتے ہو تو میری پیروی کرو- خدا بھی تم سے محبّت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا کہ وہ بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔" (سورہ آل عمران آیت نمبر 31)
قارئین اس آیت کو بھی آپ ڈھنڈے دل کے ساتھ پڑہیں اور سوچیں کہ کیا اللہ نے یہ فرمایا ہے کہ اگر تم میرے سے محبت کرتے ہو تو جو دل چاہے وہ کرتے پھرو ؟ نہیں بالکل بھی نہیں۔ اللہ نے بھی عشق و محبت کو اطاعت کے دائرے میں مقید کر دیا ہے اور عشق کے سچا ہونے کی دلیل ہی یہ دی ہے کہ اگر تم سچا عشق کرتے ہو تو رسول کی پیروی کرو اور پیروی کو ہی حقیقی عشق قرار دیا ہے۔
اگر ہم نے یہی اصول بنانا ہے کہ آئمہ (ع) کی محبت میں کچھ بھی کر لو تب پھر ہماری عوام کو تراویح کی نماز میں سب سے پہلی صف میں جا کر کھڑا ہونا چاہئے کیونکہ تراویح پڑھنے والے بھی تو قرآن سے عشق میں ہی گھنٹہ گھنٹہ کھڑے ہو کر اور تکلیف برداشت کر کے تراویح پڑھتے ہیں۔۔ ۔ ۔۔ (غور کیجئے گا اس مثال پر اور اس جیسی اور بھی بہت سی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں)
ہمارے آئمہ (ع) نے ہمیں واضح الفاظ میں فرمایا کہ:
یا معشر الشیعہ کونوا لنا زینا ولا تکونوا علینا شئنا.
"اے ہمارے شیعو! ہمارے لئے باعث زینت بنو، باعث ننگ و عار نا بنو" (امالی شیخ صدوق، صفحہ 486)
لہذا سوچئے کہ آج آپ کہیں اپنے عشق و محبت کے نام پر کچھ ایسا ویسا تو نہیں انجام دے رہے جو آئمہ (ع) کے نام اور ان کے مشن و قربانی کے لئے بدنامی کا باعث ہو ؟ کیونکہ آج ہمارے دشمن پورے طریقے سے ہم پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ہماری بنائی ہوئی کوئی رسم آج سے تیس یا چالیس سال پہلے درست ہو اس میں مسئلہ نا ہو لیکن آج علم کی ترقی، لوگوں کی عقل کی ترقی، شعور کی بلندی کی وجہ سے وہی عمل اچھا نا سمجھا جاتا ہو مثال کے طور پر پہلے مسلمان حکمرانوں کو بطور رسم ظل الہی کہا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کہا جاتا، اسی طرح سے ہی آپ مہندی کی مثال بھی سامنے رکھ سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور پھر آج میڈیا کا دور ہے۔ کسی ایک شخص کی ایک چھوٹی سی حرکت ساری دنیا کے سامنے آ جاتی ہے اور سب کی بدنامی کا باعث بنتی ہے۔ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے۔
آپ دیکھیں کہ حکومت امام علی (ع) کا حق تھا لیکن آپ نے اس حق کو لینے کے لئے اس وجہ سے قیام نا فرمایا کہ جب تک مسلمانوں کے مسائل ٹھیک رہیں گے اور ظلم صرف امام کی ذات تک محدود رہے گا تو اس وقت تک امام (ع) حالات کا ساتھ دیتے رہیں گے (نہج البلاغہ خطبہ نمبر 74) اس سے بڑی اور کیا بات ہو گی کہ امام اسلام کے لئے اپنے حق کو لینے کے لئے قیام نا فرمائیں اور قربانی دے دیں، امام حسین (ع) کو مدینہ و مکہ سے کس قدر عشق تھا لیکن اسلام کے لئے آپ نے انہیں چھوڑ دیا۔ امام حسین (ع) کو علی اکبر و علی اصضر (ع) سے کس قدر عشق تھا لیکن امام نے اسلام کے لئے انہیں بھی قربان کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ امام علی (ع) کو رسول اللہ سے کس قدر عشق و محبت تھی۔ لیکن کیا کبھی امام علی (ع) نے بھی معاذاللہ کچھ ایسا ویسا کام انجام دیا ؟ بلکہ امام نے ساری زندگی رسول اللہ کے مکتب کو زندہ کرنے پر گزار دی اور اسی وجہ سے شہادت کو بھی حاصل کر لیا۔ عزیزان گرامی آئمہ تو اسلام کے لئے اتنا کچھ چھوڑنے اور قربان کرنے پر تیار ہو گئے لیکن کیا آپ کے لئے آپ کی بنائی ہوئی رسم اتنی اہم ہو چکی ہے کہ آپ امام (ع) کے نام کو بدنامی سے بچانے کے لئے اس کو چھوڑنے پر تیار نہیں ؟ خدارا سوچیں کہ آپ کس طرف جا رہے ہیں۔
لہذا آئیے محرم الحرام میں کوشش کریں کہ ہم اہلبیت سے عشق کا اظہار ان کی اطاعت کر کے کریں۔ ہم اہلبیت سے اس طرح عشق کریں جس طرح سلمان فارسی، حبیب ابن مظاہر نے کیا۔ اہلبیت کے نام پر کوئی بھی عمل انجام دینے سے پہلے صرف ایک مرتبہ آپ سوچ لیں کہ آپ کس کے لئے یہ عمل انجام دے رہے ہیں۔ اگر تو آپ کا عمل کسی ایسی شخصیت کے لئے ہے جو خود بھی دین میں اضافے کرتی تھی، یا جس کے پاس کوئی اصول نہیں تھا تو پھر تو ٹھیک ہے انجام دیں آپ بھی۔ لیکن اگر آپ کسی ایسی ہستی کے لئے انجام دے رہے ہیں جس ہستی نے ہمیشہ اسلام کی پاسداری کی اور کسی بھی قسم کے اضافے کو قبول نہیں کیا، جنہوں نے اپنے آپ کو پیچھے کر دیا دین کے لئے اور وہ اپنے اصولوں پر کاربند رہے تو پھر آپ کو یقینا سوچنا چاہئے کہ اگر وہ آج آپ کے سامنے آ جائیں تو آپ کو کیا کہیں گے اور اگر آپ ان کے دور میں ہوتے تو وہ کیا کہتے آپ کو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ؟
یہ بات یاد رکھیں کہ ہم دنیا میں تعداد میں کم ہیں اور جو جماعت یا گروپ یا مکتب تعداد میں کم ہو اسے ہمیشہ ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ اسے کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اپنی بہت سی چیزوں پر نظر ثانی کرنا پڑتی ہے تب ہی وہ اپنی منزل مقصود تک جلد پہنچ سکتی ہے۔ لہذا اگر آج ہمیں ساری دنیا پر حسینیت کا پرچم لہرانا ہے تو پھر ہمیں بہت سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا اور دیکھنا پڑے گا کہ کونسی چیز ہمارے لئے تو اچھی ہے لیکن انٹرنیشنل لیول پر وہ نقصان دہ ہے۔ کس چیز سے مقصد قیام حسین (ع) کی نیک نامی ہو گی اور کس سے بدنامی۔ ہماری کامیابی اسی میں منحصر ہے اور عزاداری کا فلسفہ بھی یہی ہے۔ عزاداری کا مقصد اپنی خواہشات کو پورا کرنا نہیں بلکہ اس کا مقصد لوگوں کا رخ امام حسین (ع) کی جانب موڑنا ہے۔
فرزندان رہبر
رہبر معظم لائبریری